بنگلہ دیش کے شمالی ضلع لال مونی ہاٹ کے سرحدی علاقے پٹگرام میں بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کی فائرنگ سے ایک بنگلہ دیشی شہری ہلاک ہوگیا۔
بنگلہ دیشی حکام کے مطابق یہ واقعہ سرحدی کشیدگی کے ایک اور تازہ واقعے کے طور پر سامنے آیا ہے۔
ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت 49 سالہ علی حسین کے نام سے ہوئی ہے، جو پٹگرام اپاضلع کے گاؤں دھوبل گھوری کے رہائشی تھے۔
یہ بھی پڑھیں: بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کی بڑی کارروائی، کروڑوں روپے مالیت کی منشیات ضبط
بنگلہ دیش بارڈر گارڈ (بی جی بی) کے مطابق واقعہ بارڈر پلر کے قریب 61ویں تیستا بٹالین کے دائرہ اختیار میں پیش آیا، فائرنگ کی آوازیں 2 مختلف اوقات میں سنائی دیں، پہلی بار منگل کی سہ پہر جبکہ دوسری بار بدھ کی علی الصبح۔
بٹالین کے کمانڈنگ افسر لیفٹیننٹ کرنل سید فضلِ منعم نے ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بی ایس ایف اہلکاروں نے نو مینز لینڈ کے علاقے میں ایک جھڑپ کے دوران فائرنگ کی۔
The man was with seven to eight other Bangladeshi nationals who allegedly tried to cut the barbed-wire border fence, a Border Guard Bangladesh official said.https://t.co/t7AabDKFVS pic.twitter.com/MEuUjlrcbc
— Scroll.in (@scroll_in) April 8, 2026
بی جی بی کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد بی ایس ایف سے رابطہ کیا گیا، جس پر بھارتی حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ 7 سے 8 بنگلہ دیشی شہری صبح سویرے بھارتی حدود میں داخل ہوئے اور سرحدی باڑ کاٹنے کی کوشش کر رہے تھے۔
بی ایس ایف کے مطابق اہلکاروں نے پہلے وارننگ فائر کیے، تاہم صورتحال بگڑ کر ہاتھا پائی میں تبدیل ہوگئی، جس دوران علی حسین کو گولی لگی۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش: آئینی اصلاحات کی شقیں منسوخ کرنے پر حزب اختلاف نے احتجاج کی دھمکی دیدی
بھارتی حکام کے مطابق زخمی علی حسین کو اپنی تحویل میں لے کر بھارت کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔
بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی تفصیلات کی تصدیق کی جا رہی ہے جبکہ معاملے کے حل کے لیے بٹالین اور سیکٹر کمانڈر سطح پر فلیگ میٹنگز کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیشی وزیر خارجہ 3 روزہ سرکاری دورے پر نئی دہلی پہنچ گئے
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل اسی سرحدی علاقے میں ایک اور بنگلہ دیشی شہری محمد میزان الرحمان بی ایس ایف کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے تھے، جو مبینہ طور پر گھاس کاٹ رہے تھے۔
واضح رہے کہ شہریوں سے متعلق سرحدی واقعات ماضی میں بھی ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں، حالانکہ دونوں ممالک کی جانب سے تحمل اور احتیاط برتنے کی یقین دہانیاں کرائی جاتی رہی ہیں۔












