سابق صدر آزاد کشمیر اور اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی قیادت نوبیل امن انعام کی مستحق ہے کیونکہ اس نے بروقت اور مؤثر سفارتکاری کے ذریعے دنیا کو ایک ممکنہ تباہ کن جنگ سے بچایا ہے۔
وی نیوز ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے مسعود خان نے کہاکہ گزشتہ چند دنوں میں عالمی حالات انتہائی کشیدہ ہو چکے تھے اور دنیا ایک بڑے بین الاقوامی بحران کی طرف بڑھ رہی تھی۔ تاہم آخری لمحات میں ہونے والی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی جس سے عالمی سطح پر تشویش میں کمی آئی۔
مزید پڑھیں: امریکا ایران جنگ بندی پر بھارت پریشان ہے کہ یہ کیا ہوگیا، وزیر دفاع خواجہ آصف
انہوں نے کہاکہ اس دوران امریکا اور ایران دونوں کی جانب سے سخت بیانات سامنے آ رہے تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مسلسل دھمکی آمیز بیانات دیے جا رہے تھے جبکہ ایران بھی کسی دباؤ کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھا، جس سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی تھی۔
پاکستان نے دنیا کو بڑے تصادم سے بچایا
مسعود خان نے کہاکہ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے خاموش مگر مؤثر سفارتکاری جاری رکھی اور پسِ پردہ کوششوں کے ذریعے بحران کو ٹالنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ان کے مطابق عالمی میڈیا بھی کہہ رہا تھا کہ جنگ کے امکانات بڑھ چکے ہیں، مگر پاکستان کی کوششوں نے دنیا کو ایک بڑے تصادم سے بچایا۔
انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت جس سفارتی مقام پر کھڑا ہے، ایسا لمحہ اس کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں آیا۔ انہوں نے 1971 کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ جس طرح پاکستان نے چین اور امریکا کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کیا تھا، اسی طرح موجودہ صورتحال میں بھی پاکستان نے غیر معمولی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔
مسعود خان کے مطابق وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور دیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات نے متحرک کردار ادا کیا جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بھی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے رابطے کیے، جس سے پاکستان کی کوششوں کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے مسلسل رابطے رکھے اور ٹیلی فون و زوم کے ذریعے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا، اور انہی کوششوں کے نتیجے میں پاکستان میں ترکیہ، مصر اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ کی اہم ملاقات ہوئی، جس سے علاقائی سطح پر اتفاق رائے پیدا ہوا۔
سعودی عرب پر حملے سے معاملہ حساس ہوگیا
مسعود خان نے کہاکہ چین کے ساتھ مل کر پانچ نکاتی فارمولا بھی پیش کیا گیا جس کا مقصد جنگ کو روکنا اور خطے کے بنیادی مسائل کے حل کے لیے راہ ہموار کرنا تھا۔
سعودی عرب پر حملے کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ صورتحال انتہائی حساس ہوگئی تھی، تاہم سعودی عرب نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور پاکستان نے فوری طور پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے مضبوط دفاعی تعلقات اس معاملے کو مزید اہم بناتے ہیں۔
ایران کے پاس اب بھی خطرناک دفاعی صلاحیت
انہوں نے کہاکہ ایران کے پاس اب بھی بیلسٹک، کروز اور ہائپر سونک میزائلوں سمیت خطرناک دفاعی صلاحیت موجود ہے، جبکہ سستے ڈرونز خطے کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
مستقبل کے حوالے سے مسعود خان نے کہاکہ سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ آگے کیا ہوگا، کیونکہ ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی کردار پر اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ امریکا کی جانب سے ایران پر مختلف شرائط عائد کی گئیں، جنہیں ایران نے مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ آبنائے ہرمز کے کھلنے کے بعد امید پیدا ہوئی ہے کہ عمان اور ایران کے درمیان کسی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، جبکہ اگر ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔
مسعود خان نے کہاکہ پاکستان کے لیے یہ ایک بڑا اعزاز ہے کہ اسے اس سطح کے مذاکرات کی میزبانی کا موقع ملا ہے، جو اس کی بہتر ہوتی عالمی ساکھ کا ثبوت ہے۔ ان کے مطابق چین، روس، یورپی یونین، امریکا اور خلیجی ممالک پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں۔
پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے دروازے
معاشی حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ اس سفارتی کامیابی کے بعد پاکستان کے لیے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھل سکتے ہیں۔
انہوں نے سی پیک ٹو اور چین کی جانب سے اضافی سرمایہ کاری کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ پاکستان کو اپنی مقامی صلاحیت بڑھا کر ان مواقع سے فائدہ اٹھانا ہوگا۔
مزید پڑھیں: ’پاکستان زندہ باد، پاک فوج زندہ باد‘: محمود اچکزئی کا حکومت کی غیرمشروط حمایت کا اعلان
مسعود خان نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ پاکستان نے عالمی امن کے لیے جو کردار ادا کیا ہے، وہ غیر معمولی ہے اور اسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا چاہیے۔













