امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کو حقیقت میں بدلنے میں پاکستان نے مرکزی کردار ادا کیا، جس نے پوری دنیا پر چھائے ہوئے کشیدگی کے سائے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس کامیابی کے ذریعے پاکستان کی قیادت نے ثابت کیا کہ ملک عالمی امن کے فروغ میں ایک قابل اعتماد اور مؤثر طاقت ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد مذاکرات: امریکی اور ایرانی وفود آج پاکستان پہنچیں گے، سعودی وزیر خارجہ کا اسحاق ڈار کو فون
انگریزی اخبار میں شائع سینیئر صحافی انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے نہ صرف واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغام رسانی کی بلکہ چین، سعودی عرب، ترکی اور دیگر اہم کھلاڑیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہ کر مذاکرات کے عمل کو کامیابی سے آگے بڑھایا۔
رپورٹ کے مطابق یہ جنگ بندی کسی میڈیا ہائپ یا نمائشی کارروائی کا نتیجہ نہیں بلکہ خاموش اور مستقل سفارتی کوششوں کا ثمر ہے، جس میں پاکستان نے مؤثر ثالثی، باوقار قیادت اور امن کے لیے غیر مشروط شراکت فراہم کی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کی قیادت نے دن رات محنت کی، دونوں حریفوں کے درمیان اعتماد بحال کیا اور ایسے ماحول میں مذاکرات کو کامیاب بنایا جہاں دیگر ممالک اور کچھ کھلاڑی اس عمل کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ پاکستان نے ایسی منفرد پوزیشن اختیار کی جس کی وجہ سے دونوں فریقین نے اس کی سچائی اور غیر جانبداری پر بھروسہ کیا۔ یہ جنگ بندی نہ صرف سفارتکاری کی کامیابی ہے بلکہ صبر و تحمل، بصیرت اور پاکستان کی پختہ اور متحدہ سول و عسکری قیادت کی بھی کامیابی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کینیڈا کا پاکستان کے کردار کا اعتراف، مشرق وسطیٰ جنگ بندی پر قریبی رابطے جاری رکھنے پر اتفاق
رپورٹ کے مطابق یہ ثالثی کسی سرکاری بیان یا خبروں کے لیے نہیں بلکہ خفیہ اور مستقل مذاکرات، حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات، توانائی کے انفراسٹرکچر اور تجارتی جہاز رانی کے تحفظ جیسے عملی اقدامات پر مبنی تھی۔ جیسا کہ ایک ماہر نے کہا کہ ’جب ہر کوئی جنگ کی بات کر رہا تھا، پاکستان یہ کہہ رہا تھا کہ اسے کیسے روکا جائے‘۔














