آبنائے ہرمز پر ٹول ناقابل قبول، لبنان کو جنگ بندی میں شامل کیا جائے، برطانوی وزیر خارجہ کا مطالبہ

جمعرات 9 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری نقل و حمل پر کسی قسم کا ٹول عائد نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بیان ایران کی اس کوشش کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جس میں وہ اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول حاصل کر کے جہازوں سے فیس وصول کرنا چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب

ایران کا کہنا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس عائد کرنا چاہتا ہے، جبکہ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ کشیدگی سے قبل اس گزرگاہ کو باضابطہ طور پر ایک بین الاقوامی آبی راستہ تصور کیا جاتا تھا۔

لندن کے مینشن ہاؤس میں سالانہ خارجہ پالیسی خطاب کے دوران یوویٹ کوپر نے اس بات پر زور دیا کہ سمندروں کی بنیادی آزادیوں کو یکطرفہ طور پر نہ تو ختم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی انہیں کسی ایک فریق کے ہاتھ فروخت کیا جا سکتا ہے۔

’بین الاقوامی آبی گزرگاہ پر ٹولز (ٹیکس) کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ جہاز رانی کی آزادی کا مطلب یہی ہے کہ اس پر کوئی پابندی یا فیس نہ ہو۔‘

مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز میں پاکستانی آئل ٹینکر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ من گھڑت

علاوہ ازیں، یوویٹ کوپر نے عالمی رہنماؤں کے اس مطالبے کو بھی دہرایا کہ ایران اور امریکا کے درمیان منگل کو طے پانے والی 2 ہفتوں کی جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے۔

ادھر اسرائیل نے بدھ کے روز لبنان پر اب تک کے سب سے بڑے حملے کیے، جن میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کو نشانہ بنایا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp