وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تیاری کے لیے مشاورتی عمل کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔
اس سلسلے میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کاروباری برادری کے ساتھ ایک اہم اور تفصیلی اجلاس منعقد کیا، جس میں بجٹ تجاویز اور معیشت کی سمت پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کے لیے ترجیحات کا تعین کرلیا
اجلاس کے دوران کاروباری برادری اور حکومتی نمائندوں کے درمیان آئندہ بجٹ سے متعلق مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا، جبکہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان روابط مزید مضبوط بنانے پر اتفاق بھی کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے اس موقع پر کہا کہ معاشی استحکام اور پائیدار ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اسی وژن کے تحت بجٹ سازی کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں بجلی سبسڈی کی اجازت دے دی
اجلاس میں پاکستان کو خطے میں ٹرانزٹ اور سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا، جبکہ برآمدات کے فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات پر گفتگو ہوئی۔
کاروباری برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھا جائے اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو فروغ مل سکے۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم کا آئندہ بجٹ میں براہِ راست ٹیکس کم کرنے کا عندیہ، کاروباری طبقے کو ریلیف دینے کا اعلان
شرکا نے صنعتی و تجارتی شعبے کے لیے لیکویڈیٹی بہتر بنانے کی تجاویز بھی پیش کیں۔
اس موقع پر وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی نے زور دیا کہ پیش کردہ تجاویز کو قابلِ عمل بنایا جائے تاکہ ان کے مثبت نتائج سامنے آ سکیں۔
مزید پڑھیں: بلاول بھٹو کی مشروط حمایت: حکومت منی بجٹ تیارکر رہی ہے یا اگلے سال کا مالی بجٹ؟
حکام کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی کہ ایف بی آر اور ٹیکس پالیسی آفس اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں گے اور بجٹ سازی کے عمل میں مشاورت کو مرکزی حیثیت دی جائے گی۔
وزارت خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔














