میرپورخاص: میڈیکل طالبہ کی خودکشی، ہراسانی کے الزامات پر انکوائری کا حکم

جمعرات 9 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ابن سینا یونیورسٹی سے وابستہ محمد میڈیکل کالج میں تیسرے سال کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے مبینہ طور پر اپنے والد کے پستول سے خود کو گولی مار کر زندگی کا خاتمہ کر لیا۔

اس افسوسناک واقعے کے بعد سندھ حکومت نے ایک پروفیسر کی جانب سے مبینہ ہراسانی کے الزامات کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔

اہلِ خانہ کے مطابق فہمیدہ لغاری مبینہ طور پر ایک فیکلٹی ممبر کی جانب سے ہراسانی کے باعث شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھیں، جو گزشتہ روز اس سانحے کی سبب بنا۔

 یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کمپوزٹ سرکل میرپور خاص کی بڑی کارروائی، بی آئی ایس پی فنڈز میں خردبرد کرنے والا گروہ گرفتار

واقعے پر سندھ حکومت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کی ہدایت پر فوری کارروائی شروع کی۔

ان کی ہدایت پر ڈی آئی جی میرپورخاص نے ایک اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے، جسے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کا ٹاسک دیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق کمیٹی کو 10 دن میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کمیٹی میں ایس ایس پی میرپورخاص سید فدا حسین شاہ، ایس پی ہیڈکوارٹرز آفتاب حسین تالپور اور ایس پی سٹی قرۃالعین شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: سندھ میں جعلی میٹرک سرٹیفکیٹ اسکینڈل پر تحقیقاتی کمیٹی قائم

سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی ہراسانی کے الزامات، ادارہ جاتی ذمہ داری اور ممکنہ مجرمانہ غفلت سمیت تمام پہلوؤں کی جامع تحقیقات کرے گی۔

اگر متوفیہ کی جانب سے کوئی آڈیو یا تحریری پیغام چھوڑا گیا ہو تو اس کا فورینزک اور تجزیاتی جائزہ بھی لیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ انکوائری صرف انفرادی ذمہ داری تک محدود نہیں ہوگی بلکہ ادارے کے اندر انتظامی اور نظامی خامیوں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس میں میڈیکو لیگل آفیسر میرپورخاص سے گرفتار

نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ ذمہ دار افراد یا اداروں کے خلاف قانونی اور محکمانہ کارروائی کی سفارشات بھی پیش کی جائیں گی۔

جبکہ تحقیقات کو شفاف، مکمل اور غیر جانبدار بنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دوسری جانب سوشل میڈیا پر کالج کے مالک سے منسوب ایک بیان میں ہراسانی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کو ذاتی سانحہ قرار دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں: آئی جی سندھ کی زیر صدارت اجلاس، فیس لیس ای چالان کے نفاذ سے متعلق اہم فیصلے

کہا گیا ہے کہ طالبہ نے اپنی زندگی میں کوئی باضابطہ شکایت درج نہیں کرائی تھی۔ بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ادارہ ایک محفوظ تعلیمی ماحول فراہم کرتا ہے۔

تاہم اہلِ خانہ نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبہ ایک فیکلٹی ممبر کے رویے کے باعث ذہنی دباؤ کا شکار تھیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مزید کارروائی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں کی جائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پیپلز پارٹی کا 40 برس بعد مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، بلاول بھٹو کے لیے یہ سیاسی امتحان کتنا اہم؟

ایرانی حکومت ہوش مندی سے کام لے ورنہ پورا خطہ پہلے سے زیادہ امریکی گرفت میں چلا جائےگا، منصور جعفر

پاکستان اور کشمیر کو دنیا کی کوئی طاقت الگ نہیں کر سکتی، فرزانہ یعقوب

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

رائٹرز کی مالک کمپنی نے عالمی پرنٹ کاروبار کے 51 فیصد حصص 50 کروڑ ڈالر میں فروخت کردیے

ویڈیو

ایم کیو ایم کے دھڑے آمنے سامنے، شہری سندھ کے حقوق کی تحریک یا اقتدار کی نئی جنگ؟

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

کالم / تجزیہ

طوفانی بولنگ اور ماجد خان کی دلیری

پانی کی بڑھتی قلت ایک مربوط منصوبہ بندی کی متقاضی

پاکستان کی اسلامی روح اور خوارج کا جھوٹا پروپیگنڈہ….!!