پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات سے امن عمل کا آغاز ہوگا، فوری کشیدگی ختم ہونے کا امکان کم ہے، سفارتکار ضمیر اکرم

ہفتہ 11 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے سابق سفارتکار ضمیر اکرم نے پاکستان کی ثالثی میں آج ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کہا ہے کہ اس وقت یہ بات خوش آئند ہے کہ امن مذاکرات کا آغاز ہوا ہے۔ ان مذاکرات سے خطے میں امن عمل کا آغاز ہوگا، ایک پراسیس شروع ہوگا کہ کوئی حل نکلے، یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ دو دن کے بعد معاہدہ ہوگا اور جنگ ختم ہو جائے گی۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں حقیقت پسند ہونا چاہیے اور یہ امید نہیں رکھنی چاہیے کہ فوری طور پر یہ جنگ بند ہو جائے گی، ہمیں کوشش یہ کرنی چاہیے کہ جنگ بندی برقرار رہے۔

مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات: پاکستان ماضی میں کب کب عالمی سفارتکاری کا مرکز بنا؟

ضمیر اکرم نے کہاکہ اس میں خطرہ یہ ہے کہ اسرائیل مذاکرات کو خراب کرنے کی کوشش کرے گا، کیونکہ اس کا مفاد اس میں نہیں کہ جنگ بندی ہو اور کوئی حل نکلے۔ اسرائیل ان مذاکرات کو خراب نہ کرے، اور اس بات سے صرف امریکا اس کو روک سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لبنان کی طرف ہم کوشش کر سکتے ہیں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف اس کی حمایت بھی کرتے ہیں۔

مذاکرات کا انحصار اس پر ہے کہ فریقین کتنی لچک دکھاتے ہیں

انہوں نے کہاکہ یہ بڑے پیچیدہ مذاکرات ہیں، جن میں ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں بات ہونی ہے، آبنائے ہرمز پر بات ہونی ہے، ایران پر تجارتی پابندیوں کے بارے میں بات ہونی ہے، تو دیکھنا یہ ہے کہ فریقین کتنی لچک دکھاتے ہیں اور مذاکرات کے لیے کتنی تیاری کے ساتھ آتے ہیں لیکن یہ دو تین دنوں میں حل کرنا ممکن نہیں۔

پاکستان نے اسرائیل کے خلاف اپنی لیوریج کو استعمال کیا؟

اس سوال کے جواب میں سفارتکار ضمیر اکرم نے کہاکہ اسرائیل ایک بدمعاش ریاست ہے اور اس کا مقصد تو کئی ملکوں میں تباہی پھیلانا ہے۔ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات تو نہیں ہیں لیکن امریکا کے ساتھ ہیں اور امریکا کی لیوریج ہے اسرائیل پر کیونکہ اسرائیل کو اربوں ڈالر کا اسلحہ اور مالی امداد امریکا سے جاتی ہے اور امریکا اس لیوریج کو استعمال کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اسرائیل کی بھی امریکا پر بہت بڑی لیوریج ہے۔ اسرائیل امریکا کے کاروباری اداروں، سیاست اور میڈیا پر بہت زیادہ اثر و رسوخ رکھتا ہے تو امریکا کے لیے بھی اتنا آسان نہیں، خطے کے ممالک کو اب سمجھ آ جانی چاہیے کہ ان کو اصل خطرہ اسرائیل سے ہے۔

اسرائیل کی تنہائی کے عمل کا آغاز ہوگیا ہے

ایک سوال کے جواب میں سفارتکار ضمیر اکرم نے کہاکہ میں نہیں سمجھتا کہ امریکا اسرائیل کو تنہا چھوڑ سکتا ہے، لیکن امریکا میں لوگوں کو احساس ہونا شروع ہوگیا ہے کہ اسرائیل نے امریکا کو گمراہ کرکے اس جنگ میں دھکیلا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اسرائیل نے غلط انٹیلیجنس دی کہ ایران میں رجیم گر جائے گی، لیکن اس کے باوجود اسرائیل کا امریکا اور یورپ میں بہت زیادہ اثر و رسوخ ہے، لیکن اسرائیل کی تنہائی کے عمل کا اس وقت آغاز ہوگیا ہے۔

کیا پاکستان خطے کا نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر بن سکتا ہے؟

مزید پڑھیں: امن کے لیے پاکستان کی کامیاب سفارتکاری، عالمی سطح پر پذیرائی، بھارت میں شدید ردعمل

اس سوال کے جواب میں ضمیر اکرم نے کہاکہ ہمیں نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر بننے کی بجائے اپنے مسائل پر فوکس کرنا چاہیے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی بہت متوازن رہی ہے۔ پاکستان نے بہت سے ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو اچھا رکھا ہے اور مزید بہتر کررہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکا نے ماضی میں ہمارے ساتھ کچھ ناانصافیاں بھی کی ہیں لیکن چین کے ساتھ ثالثی کے لیے بھی وہ ہمارے پاس آیا تھا اور اب ایران کے ساتھ ثالثی کے لیے بھی ہمارے پاس آیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

افغانستان: خواتین پر کریک ڈاؤن، سرکاری لباس ضابطے کی خلاف ورزی کے الزام میں درجنوں گرفتار

بلوچستان میں ڈیجیٹل گورننس کا فروغ، ای ڈومیسائل نظام کا آغاز

پاکستان کی آئی ٹی برآمدات نے نئی تاریخ رقم کر دی، پہلی بار 4.5 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

’تحفظ کی قیمت وصول کریں گے‘ ٹرمپ کا سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور بحرین سے ایران جنگ کے اخراجات کا مطالبہ

وفاق میں تاحیات بلیو پاسپورٹ پر ہم نے تنقید کی، اب خیبرپختونخوا میں ایسا ہونا قابل قبول نہیں، مشتاق غنی

ویڈیو

خوبصورت پنجاب: گوجرانوالہ کے ایمن آباد بازار کی اپ گریڈیشن مکمل

ممنون حسین نے دور صدارت میں اردو، سی پیک کے قومی بیانیے اور کفایت شعاری کو فروغ دیا، ڈاکٹر فاروق عادل

وی ایکسکلوسیو: ایران امریکا جنگ بندی میں پاکستان اور قطر کی ثالثی اب بھی کلیدی حیثیت رکھتی ہے، اعزاز چوہدری

کالم / تجزیہ

بلوچستان: پری ٹیررازم ، ٹیررازم اور پوسٹ ٹیررازم

برداشت کی بھی حد ہوتی ہے

میسی کے گول سے 45 برس بعد کھلنے والا سفارتخانہ