ہیٹی کے مشہور تاریخی مقام ‘لا فیریئر سیٹاڈ’ ایسٹر کی سالانہ تقریب کے دوران اچانک بھگدڑ مچنے سے کم از کم 30 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے ہیں۔ ہفتے کے روز پیش آنے والے اس المناک واقعے میں کئی افراد تاحال لاپتا ہیں، جس کی وجہ سے حکام نے ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہیٹی گینگ وار کے دوران 70 افراد ہلاک 16زخمی، اقوام متحدہ کا اظہارِ تشویش
مقامی حکام کے مطابق یہ واقعہ اتوار کے روز اس وقت پیش آیا جب یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں شامل اس 19ویں صدی کے قلعے میں نوجوان سیاحوں اور طلباء کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی،سوشل میڈیا پر ایک تشہیری مہم کے نتیجے میں معمول سے کہیں زیادہ لوگ جمع ہوگئے تھے۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بھگدڑ اس وقت شروع ہوئی جب اچانک موسلا دھار بارش کے باعث قلعے کے تنگ داخلی راستے پر لوگوں نے پناہ لینے کے لیے ایک دوسرے پر چڑھنا شروع کردیا۔
ہیٹی کے وزیر ثقافت ایمانویل مینارڈ نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں طبی امداد فراہم کی جارہی ہے جبکہ ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت: اتر پردیش میں مذہبی تقریب کے دوران بھگدڑ مچنے سے 100 سے زائد افراد ہلاک
وزیراعظم الیکس ڈیڈیر فلس ایمے نے واقعے کی فوری تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے قلعے کو مزید حکمِ ثانی تک سیاحوں کے لیے بند کردیا ہے۔
یہ قلعہ ہیٹی کی فرانس سے آزادی کے بعد 19ویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا اور یہ ملک کی سب سے اہم سیاحتی علامت سمجھا جاتا ہے، ہیٹی حالیہ برسوں میں زلزلوں اور ایندھن کے ٹینکوں میں ہونے والے دھماکوں جیسی کئی بڑی آفات کا سامنا کرچکا ہے۔














