افریقی ملک یوگنڈا کے صدر کے صاحبزادے اور فوج کے سربراہ جنرل مہوزی کائنرو گابا نے ترکیہ سے ایک ارب ڈالر اور شادی کے لیے ‘خوبصورت ترین خاتون’ فراہم کرنے کا عجیب و غریب مطالبہ کر کے عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ جنرل مہوزی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ترکیہ نے 30 دن کے اندر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو یوگنڈا ان کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کر دے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یوگنڈا میں چمپینزیوں کے دو دھڑوں میں قائم ‘امن معاہدہ’ ٹوٹ گیا، خانہ جنگی میں درجنوں ہلاک
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ (ٹویٹر) پر جاری اپنے بیانات میں یوگنڈا کے آرمی چیف نے الزام عائد کیا کہ ترکیہ صومالیہ میں بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے منصوبوں سے خطیر منافع کما رہا ہے، جبکہ ان منصوبوں کو گزشتہ کئی سالوں سے سیکیورٹی فراہم کرنے کی بھاری قیمت یوگنڈا کی فوج ادا کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن کے لیے یوگنڈا کی قربانیوں کا اعتراف نہیں کیا گیا، لہٰذا ترکیہ کو اس کا مالی معاوضہ ادا کرنا چاہیے۔
مالی مطالبات کے ساتھ ساتھ جنرل مہوزی نے ایک غیر معمولی شرط بھی رکھی کہ ترکیہ انہیں ایک خوبصورت دلہن کا رشتہ دے، بصورتِ دیگر نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہے۔ انہوں نے یوگنڈا کے شہریوں کو ترکیہ کا سفر کرنے سے بھی روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یوگنڈا: کیتھولک پادری کے مبینہ تشدد اور قید کے بعد 14 سالہ لڑکا ہلاک
واضح رہے کہ جنرل مہوزی اپنے بے باک اور متنازع بیانات کے لیے مشہور ہیں؛ وہ اس سے قبل اسرائیل کی حمایت میں جنگ میں کودنے کی دھمکی اور امریکہ سے بھاری رقم کے مطالبات بھی کرچکے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق یوگنڈا کی افواج گزشتہ دو دہائیوں سے صومالیہ میں عسکریت پسند گروپ ‘الشباب’ کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، اور جنرل مہوزی کا حالیہ بیان اسی تناظر میں ترکیہ کی بڑھتی ہوئی معاشی مداخلت کے ردِعمل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔














