ہیٹی کے شمالی علاقے میں واقع تاریخی قلعہ سیٹاڈیل لا فیرئیئر میں پیش آنے والی افسوسناک بھگدڑ کے نتیجے میں کم از کم 30 افراد ہلاک ہو گئے، جبکہ حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ واقعہ ہفتے کے روز اس وقت پیش آیا جب قلعے میں سالانہ تقریب کے موقع پر بڑی تعداد میں طلبہ اور سیاح موجود تھے۔ سیٹاڈیل لا فیرئیئر انیسویں صدی کے اوائل میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے ہیٹی کی آزادی کے فوراً بعد قائم کیا گیا تھا، بعد ازاں اسے یونیسکو کی جانب سے عالمی ثقافتی ورثہ قرار دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: کوٹ ڈیجی قلعہ سے نوادرات کی چوری، توپوں کے پرزے غائب
ہیٹی کے محکمہ شہری دفاع کے سربراہ ژاں ہنری پتی نے بتایا کہ بھگدڑ قلعے کے داخلی دروازے پر ہوئی، جہاں غیر معمولی رش کے باعث صورتحال بے قابو ہو گئی۔ ان کے مطابق بارش نے بھی حالات کو مزید خراب کر دیا جس سے لوگ پھسلنے اور گرنے لگے۔
ہیٹی کے وزیر ثقافت ایمانویل میناڈ نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ ریسکیو ٹیمیں لاپتہ افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔ تاہم زخمیوں کی درست تعداد ابھی سامنے نہیں آ سکی۔
یہ بھی پڑھیے: بھارتی اداکار و سیاستدان کے جلسے میں بھگدڑ، 31 افراد ہلاک، 50 زخمی
وزیر اعظم الیکس ڈیڈیئر فِلس ایمے نے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سوگوار خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریب میں بڑی تعداد میں نوجوان شریک تھے، تاہم متاثرین کی مکمل تفصیلات ابھی معلوم نہیں ہو سکیں۔
یہ سانحہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ہیٹی پہلے ہی بدامنی، گینگ تشدد اور دیگر قدرتی و انسانی آفات کا سامنا کر رہا ہے، جس نے ملک کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔














