ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ وٹامن ڈی (Vitamin D) جسے عام طور پر ’دھوپ کا وٹامن‘ کہا جاتا ہے، اس کی زیادہ مقدار صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیقی رپورٹس کے مطابق وٹامن ڈی کی زیادتی جسم میں کیلشیم کی مقدار بڑھا دیتی ہے، جس سے Hypercalcemia جیسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے۔ اس کے نتیجے میں گردوں کی پتھری، ہڈیوں کے مسائل، متلی، قے، کمزوری اور پٹھوں میں درد جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: سردیوں میں وٹامن ڈی کی زیادتی نقصان دہ ہو سکتی ہے، ماہرین کی وارننگ
ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید صورتوں میں یہ مسئلہ گردوں کی ناکامی یا جان لیوا پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے، خاص طور پر اگر بروقت علاج نہ کیا جائے۔ بچوں اور معمر افراد میں اس کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق زیادہ تر کیسز میں وٹامن ڈی کی زیادتی غلط مقدار میں سپلیمنٹس لینے کی وجہ سے ہوتی ہے۔ امریکا میں 2000 سے 2014 کے درمیان ایسے 25 ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ بچوں میں بھی اس کے اثرات سامنے آئے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کو وٹامن ڈی کا بڑا حصہ سورج کی روشنی سے حاصل ہوتا ہے، جبکہ کچھ مقدار خوراک جیسے مچھلی اور دودھ سے ملتی ہے۔
مزید پڑھیں: ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے کیلشیم اور وٹامن ڈی ناگزیر، ماہرین
طبی ماہرین کا مشورہ ہے کہ روزانہ 600 سے 800 آئی یو وٹامن ڈی کافی ہوتا ہے، جبکہ 4000 آئی یو سے زیادہ مقدار ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر نہیں لینی چاہیے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ کسی بھی قسم کے سپلیمنٹ کے استعمال سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کرنا ضروری ہے تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔














