سپریم کورٹ میں جائیداد کے تنازع پر 4 افراد کے قتل سے متعلق اہم کیس کی سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ٹرائل کورٹ اور پراسیکیوشن سے مکمل ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔
سپریم کورٹ نے ہدایت کی ہے کہ کیس میں دیے گئے تمام بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ پیش کی جائے تاکہ شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔ عدالت نے مزید کارروائی تک ٹرائل کورٹ کو حتمی فیصلہ سنانے سے بھی روک دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: باپ کے قتل میں ملوث مجرم کی سزائے موت برقرار، سپریم کورٹ نے اپیل مسترد کر دی
سماعت کے دوران جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ اگر یہ ثابت ہوا کہ غلط بیانات ریکارڈ کیے گئے ہیں تو ذمہ دار جج کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
درخواست گزار نایاب عمرانی نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خاندان کے 4 افراد قتل ہوئے ہیں جبکہ ان کے مطابق مخالف فریق کی جانب سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی بہن صنم عمرانی کے قتل کیس میں گواہیوں کو جان بوجھ کر غلط انداز میں درج کیا گیا۔
نایاب عمرانی نے عدالت سے استدعا کی کہ تمام گواہیوں کو ویڈیو ریکارڈنگ کے مطابق دوبارہ ریکارڈ کیا جائے، کیونکہ ان کے مطابق بیانات میں تاریخیں اور حقائق تبدیل کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: سپریم کورٹ میں قتل کے 2 اہم کیسز، صلح، شواہد اور سزاؤں پر سخت سوالات
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔ صنم عمرانی قتل کیس ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حیدرآباد تصوری علی کی عدالت میں زیر التوا ہے۔












