پیوٹن کا 26 ارب ڈالر کا ’اینٹی ایجنگ‘ منصوبہ، انسانی اعضا کی تبدیلی اور لافانی زندگی کی تلاش پر نئی رپورٹ

اتوار 31 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

بین الاقوامی میڈیا میں شائع رپورٹ کے مطابق روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن مبینہ طور پر ایک بڑے پیمانے پر 26 ارب ڈالر کے ایسے سائنسی منصوبے کی پشت پناہی کر رہے ہیں جس کا مقصد انسانی عمر بڑھانے اور اعضا کی تبدیلی کے ذریعے ’لمبی یا ممکنہ طور پر لافانی زندگی‘ کی طرف پیشرفت کرنا ہے۔ اس منصوبے میں مصنوعی اعضا، جینیاتی علاج اور حیاتیاتی انجینئرنگ جیسے جدید طریقے شامل کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ماسکو اور بیجنگ کی دوستی کسی کے خلاف نہیں، روسی صدر پیوٹن

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ منصوبہ روس میں ایک ریاستی ترجیح کے طور پر آگے بڑھایا جا رہا ہے، جس میں انسانی اعضا کی 3D بائیو پرنٹنگ اور جانوروں کے اندر انسانی اعضا تیار کرنے  جیسے تجربات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس پروگرام کے تحت مستقبل میں انسانی اعضا کی مکمل تبدیلی کو اس دہائی کے آخر تک ممکن بنانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب تک اس منصوبے کے تحت انسانی کارٹلیج (غضروف) اور چوہے کے تھائرائیڈ گلینڈ جیسے حیاتیاتی نمونے تیار کیے جا چکے ہیں، جبکہ طویل المدتی مقصد انسانوں کے لیے مکمل اعضا کی تبدیلی کا نظام تیار کرنا ہے۔

منصوبے کی قیادت مبینہ طور پر روسی قیادت سے قریبی تعلق رکھنے والی شخصیات کر رہی ہیں، جن میں پیوٹن کی بیٹی اور اینڈوکرائنولوجسٹ ماہر ماریا وورونتسووا اور فزکس کے ماہر میخائل کووالچک شامل ہیں۔ کووالچک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ وہ انسانی جسم کی مرمت اور اعضا کی تبدیلی کو مستقبل کی سائنس کا بنیادی ہدف سمجھتے ہیں۔

تاہم بعض روسی سائنسدانوں نے اس منصوبے پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق اس حوالے سے بین الاقوامی سائنسی جرائد میں ہم مرتبہ جائزہ (peer-reviewed) تحقیق موجود نہیں، جس کی وجہ سے ان دعوؤں کو زیادہ تر ’توقعات‘ یا ’مستقبل کے تصورات‘ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فلسطینی ریاست کا قیام اصولی معاملہ ہے، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پیوٹن کی ذاتی دلچسپی طویل عمر اور جسمانی فٹنس کے حوالے سے طویل عرصے سے زیر بحث رہی ہے۔ وہ اسپورٹس اور سخت جسمانی سرگرمیوں میں حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ کریوتھراپی جیسے جدید طریقوں میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں، جس میں جسم کو انتہائی کم درجہ حرارت پر رکھا جاتا ہے۔

مزید یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ حالیہ برسوں میں ایک موقع پر پیوٹن نے چینی صدر شی جن پنگ سے گفتگو کے دوران انسانی اعضا کی تبدیلی کے ذریعے لافانی زندگی کے امکانات کا ذکر بھی کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کے پیچھے ایک طرف سائنسی ترقی کا دعویٰ ہے تو دوسری جانب اسے روسی قیادت کی عمر اور اقتدار سے متعلق خدشات اور عالمی سطح پر سائنسی دوڑ کا حصہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم فی الحال اس منصوبے کے نتائج اور اس کی سائنسی بنیادوں پر عالمی سطح پر مزید تحقیق اور تصدیق کی ضرورت برقرار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp