یومِ انسدادِ تمباکو کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ملک میں تمباکو اور نیکوٹین مصنوعات کے نقصانات سے عوام کو بچانے کے لیے سخت قانون سازی اور مؤثر عملدرآمد کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تمباکو عالمی سطح پر ایک سنگین صحت اور معاشی مسئلہ بن چکا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے فوری اور جامع اقدامات ناگزیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایف بی آر نے تمباکو کیس میں پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کردیا
میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے یومِ انسدادِ تمباکو کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ تمباکو دنیا بھر سمیت پاکستان میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے، جو ہر سال لاکھوں قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بنتا ہے۔
انہوں نے عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ تمباکو کے استعمال سے دنیا بھر میں سالانہ 7 ملین سے زائد اموات واقع ہوتی ہیں، جن میں تقریباً 1.6 ملین اموات غیر فعال دھوئیں (سیکنڈ ہینڈ اسموک) کے باعث ہوتی ہیں۔
Message from President Asif Ali Zardari on World No Tobacco Day (31 May 2026)
It has been almost four hundred years since early writings first drew attention to the health hazards of tobacco. For decades, there has been a strong consensus in the scientific and health community… pic.twitter.com/Lk0y2k9iyP
— The President of Pakistan (@PresOfPakistan) May 30, 2026
صدر مملکت نے کہا کہ نوجوان نسل خاص طور پر اس صنعت کے نشانے پر ہے، جہاں ای سگریٹس، ویپنگ ڈیوائسز اور نیکوٹین پاؤچز جیسے جدید ذرائع کے ذریعے لت پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ کم عمری میں نیکوٹین کا استعمال مستقبل میں مستقل انحصار اور سنگین صحت مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سگریٹ نوشی کے ساتھ ساتھ ای سگریٹس اور دیگر نیکوٹین مصنوعات بھی عوامی صحت کے لیے بڑھتا ہوا خطرہ ہیں، جبکہ بعض افراد میں مختلف نشہ آور اشیا کے مشترکہ استعمال کے رجحانات مزید تشویشناک ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ضلع حیدرآباد میں تمباکو نوشی پر مکمل پابندی، ڈپٹی کمشنر کا سخت ایکشن
صدر زرداری نے زور دیا کہ حکومت، پارلیمان اور صوبائی اسمبلیوں کو مل کر ایسے قوانین بنانے چاہییں جو عوام کو تمباکو کے نقصانات سے محفوظ رکھ سکیں، اور ان پر مؤثر عملدرآمد بھی یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ “مرچنٹس آف ڈیتھ” کے اثر و رسوخ کو روکنا قومی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ والدین، اساتذہ، طبی ماہرین، فنکاروں اور سماجی رہنماؤں سمیت معاشرے کے تمام طبقات کو آگاہی پھیلانے اور نوجوانوں کو تمباکو سے دور رکھنے میں کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق گھریلو اور معاشرتی سطح پر شعور اجاگر کرنے سے عوامی صحت کے نظام میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔














