کراچی میں سندھ کے سینیئر وزیر شرجیل انعام میمن نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ پیش رفت کے بعد پوری دنیا کو پاکستان کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہے اور ‘معرکۂ حق’ میں کامیابی کے بعد ملک کا عالمی وقار بلند ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات اور امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا انعقاد پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے، جبکہ ان پیش رفتوں کے بعد بھارتی میڈیا پریشانی کا شکار دکھائی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کامیابی پر وزیراعظم شہباز شریف اور عسکری قیادت مبارکباد کے مستحق ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے خطے کو جنگ سے بچایا، امریکا و ایران مذاکرات کا کریڈٹ اسلام آباد کو جاتا ہے، طاہر اشرفی
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی ایٹمی طاقت ہے اور ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت اہم اجلاس میں چاروں وزرائے اعلیٰ نے شرکت کی، جس میں قومی امور پر مشاورت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں سیلاب متاثرین کے لیے دنیا کے بڑے ہاؤسنگ منصوبوں میں سے ایک پر کام جاری ہے، جس کے تحت 21 لاکھ خاندانوں کو گھر فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے اور دیگر اقدامات میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ڈیٹا سے بھی استفادہ کیا جا رہا ہے۔
سندھ میں زرعی شعبے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سال گندم کی بمپر فصل ہوئی ہے اور 3 لاکھ سے زائد چھوٹے کاشتکاروں کو فی ایکڑ 1500 روپے فراہم کیے گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سندھ حکومت واحد صوبائی حکومت ہے جس نے کسانوں کو سبسڈی کی ادائیگیاں مکمل کیں، جبکہ زرعی شعبے میں 100 فیصد سبسڈی فراہم کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان مذاکرات کے فروغ کے لیے پُرعزم، پائیدار امن کے لیے وقت اور سنجیدگی ناگزیر ہے، شیری رحمان
ٹرانسپورٹ کے شعبے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری اور نجی دونوں ٹرانسپورٹ کے لیے سبسڈی دی جا رہی ہے تاکہ عوام کو کرایوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے، جبکہ چند دنوں میں مزید شہروں میں اسکوٹرز کی فراہمی بھی شروع کی جائے گی۔
پولیو کے حوالے سے شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اس کے خلاف آگاہی مہم بینظیر بھٹو کے دور سے جاری ہے، جسے بعد میں مزید وسعت دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ آصفہ بھٹو زرداری نے بھی اس مہم میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیو کے خاتمے کے لیے جاری مہم میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے اردگرد لوگوں کو اس حوالے سے آگاہ کریں، کیونکہ یہ ایک قومی اور انسانی فریضہ ہے۔














