پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ پاکستان تمام فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی (BBC) کو دیے گئے انٹرویو میں شیری رحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سفارتی اور عملی سطح پر ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جہاں تمام اسٹیک ہولڈرز کھل کر بات چیت کر سکتے ہیں، جبکہ خطے کے دیگر ممالک بھی اس عمل میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات نے مضبوط سفارتی عمل کی بنیاد رکھ دی، باہمی اعتماد سے مزید استحکام ممکن ہے، ایران
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے پُرعزم ہے، تاہم اس کے لیے فریقین میں حقیقی سیاسی عزم ضروری ہے۔ ان کے مطابق سنجیدگی سے مذاکرات جاری رکھنا ہی کسی متوازن اور قابل قبول حل کی طرف پیشرفت ممکن بنا سکتا ہے۔
شیری رحمان نے زور دیا کہ انتہاپسندانہ مؤقف کے بجائے درمیانی راستہ اختیار کرنا خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر Sherry Rehman نے کہا ہے کہ پاکستان تمام فریقین کے درمیان رابطے برقرار رکھنے اور مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
برطانوی نشریاتی ادارے BBC کو انٹرویو:@azamshaam @iamabidmalik @sherryrehman pic.twitter.com/WIzgjTGqZw— Media Talk (@mediatalk922) April 13, 2026
انہوں نے کہا کہ کسی بھی اہم سفارتی پیشرفت کے لیے ایک دن کافی نہیں ہوتا اور ابتدائی ملاقاتیں صرف اعتماد سازی (آئس بریکر) کا کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق جنگ سے نکلنے والے فریقین کو سنجیدہ مذاکرات کے لیے وقت اور مناسب ماحول فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی مذاکرات میں حتمی معاہدے کے بجائے ممکنہ آپشنز اور راستوں پر غور کیا جاتا ہے، جبکہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے کیونکہ ماضی میں ایسی جنگ بندیاں اکثر عارضی ثابت ہوئی ہیں۔
شیری رحمان نے مزید کہا کہ مذاکرات کا رک جانا بدقسمتی ہے کیونکہ یہ وقت ایک اسٹریٹجک وقفے کے طور پر استعمال ہونا چاہیے تھا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بڑا سفارتی نتیجہ ایک ہی نشست میں حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک طویل عمل ہوتا ہے جس میں مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ تحمل اور وقت کی کمی صورتحال کو طویل اور تباہ کن تنازع کی طرف دھکیل سکتی ہے، جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔














