وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ ایران اور امریکا کے مابین سیزفائر اب بھی قائم ہے اور یہ وطن عزیز نے یہ سب کچھ اللہ کی رضا کی خاطر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا اور ایران مذاکرات جاری رکھنے پر متفق، اگلی نشست جلد متوقع، تجزیہ کار
کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی فراست اور حکمت سے امریکا ایران جنگ بند ہوئی اور فریقین نے عارضی سیزفائر پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ملک کی سیاسی، معاشی اور سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ شہباز شریف نے کابینہ اراکین کو ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بریفنگ دی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے محض اللہ کی رضا کی خاطر انسانیت کو بچانے کے لیے جنگ بندی کے لیے انتھک کوششیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان 47 سال بعد براہ راست بات چیت ہوئی۔
مزید پڑھیے: ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستان کا کردار قابلِ تحسین، عالمی وقار میں اضافہ: مفتی تقی عثمانی
ان کا کہنا تھا کہ دعوت قبول کرنے پر ایرانی صدر کے مشکور ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ بندی کے کوششیں کرنے پر وہ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور ان کی ٹیم کے بھی مشکور ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بطور وزیراعظم میرا فرض ہے کہ قومی راز میرے سینے میں ہی رہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور امریکا کو کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کی میز پر لانے کا سہرا پاکستان کو جاتا ہے اور اس عمل میں مثبت پیشرفت کی امید ہے۔
کابینہ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے لیے وزیراعظم کی کوششوں کو سراہا اور ارکان نے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور دونوں ممالک کے درمیان تعطل کا شکار معاملات کو حل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں اہم سہولت کاری کا کردار ادا کیا اور یہ پہلی بار ہوا کہ کئی دہائیوں بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ سطحی وفود براہ راست آمنے سامنے بیٹھے۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات پاکستان کی درخواست پر ہوئے اور اس پیشرفت سے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد ملی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے جن میں دونوں فریقوں نے الگ الگ مگر مثبت مؤقف پیش کیا اور پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو عالمی سطح پر اس کردار کے باعث غیر معمولی عزت ملی ہے اور یہ موقع ملک کے لیے ایک تاریخی پیشرفت ہے۔ وزیراعظم کے مطابق جب دنیا کی معیشت غیر یقینی صورتحال کا شکار تھی اس وقت پاکستان نے امن قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ مختلف عالمی رہنماؤں نے پاکستان کے اس کردار کو سراہا ہے اور اسے خطے میں امن کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔














