صدر ٹرمپ کا وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ مسترد

پیر 13 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف دائر ہتکِ عزت کا مقدمہ ایک امریکی جج نے پیر کے روز مسترد کر دیا، تاہم عدالت نے ٹرمپ کو دوبارہ کیس دائر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

میامی میں تعینات امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیرن گیلز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ اس قانونی معیار پر پورا نہیں اتر سکے جسے ’حقیقی بدنیتی‘ کہا جاتا ہے، جو کسی عوامی شخصیت کے لیے ہتکِ عزت کے مقدمے میں ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:‘ 25ویں آئینی ترمیم ٹرمپ کے لیے بنی تھی،’ سابق سی آئی اے ڈائریکٹر کا امریکی صدر کو ہٹانے کا مطالبہ

اس معیار کے تحت یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ نہ صرف بیان غلط تھا بلکہ اسے شائع کرنے والے کو اس کے غلط ہونے کا علم تھا یا ہونا چاہیے تھا۔

جج نے لکھا کہ یہ شکایت اس معیار کے قریب بھی نہیں پہنچتی، بلکہ اس کے برعکس ہے۔

عدالت کے مطابق اخبار کے رپورٹرز نے خبر شائع کرنے سے پہلے ٹرمپ سے مؤقف لینے کی کوشش کی اور ان کی تردید کو بھی شائع کیا، جس سے قارئین کو خود نتیجہ اخذ کرنے کا موقع ملا۔

اس بات نے ٹرمپ کے اس دعوے کو کمزور کر دیا کہ اخبار نے بدنیتی کے ساتھ رپورٹنگ کی۔

مزید پڑھیں: ٹرمپ کی کڑی تنقید: جنگ بندی کے مطالبے پر ’پوپ لیو‘ جرائم پسند قرار

یہ مقدمہ اس خبر کے بعد دائر کیا گیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ کا نام 2003 میں بدنام زمانہ سرمایہ کار اور جنسی جرائم میں ملوث جیفری ایپسٹین کے لیے ایک سالگرہ کے پیغام میں شامل تھا۔

صدر ٹرمپ نے اس پیغام کو جعلی قرار دیتے ہوئے 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا، جبکہ وال اسٹریٹ جرنل کی مالک کمپنی ڈاؤ جونز نے اپنی رپورٹ کی درستگی کا دفاع کیا ہے۔

مزید پڑھیں: ایران کے پاس اب دنیا کو ڈرانے کے لیے کچھ نہیں بچا، ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی میڈیا پر تنقید

جج نے ٹرمپ کو 27 اپریل تک ترمیم شدہ درخواست دوبارہ جمع کرانے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کیس پر نہ تو ٹرمپ کے وکلا اور نہ ہی وائٹ ہاؤس کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔

یہ مقدمہ ان کئی قانونی کارروائیوں میں سے ایک ہے جو صدر ٹرمپ نے اپنی صدارت کے دوران مختلف میڈیا اداروں کے خلاف دائر کیں، جنہیں وہ غیر منصفانہ یا غلط رپورٹنگ قرار دیتے رہے ہیں۔

اس صورتحال پر ڈیموکریٹس اور آزادیِ صحافت کے حامیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کے مقدمات تنقیدی صحافت کو دبانے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزن نارمل ہونے کے باوجود دل کو خطرہ، کمر کا گھیر اہم علامت قرار

’ہمیں مدد کی ضرورت نہیں‘ سے ’غیرملکی مدد قبول‘، نیپال کا سیلاب پر مؤقف بدل گیا

چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹری کا دورہ، دفاعی پیداوار اور خود انحصاری پر بریفنگ

بھارت سندھ طاس معاہدے سے یکطرفہ طور پر نہیں نکل سکتا، پاکستانی سفیر کا بھارتی سفیر کو کرارا جواب

افغانستان میں بھوک، خشک سالی اور بے گھری سے ذہنی صحت کو سنگین خطرات، اقوام متحدہ

ویڈیو

ٹرمپ کا وینزویلا سے ’تاریخ کا سب سے بڑا تیل معاہدہ‘، 65 ارب بیرل ذخائر پر امریکی کنٹرول اور پیٹرول سستا ہونے کا دعویٰ

پمز چلڈرن اسپتال یورپ و امریکا کے اسپتالوں سے بہتر بنا تھا، کام چلاؤ طریقوں نے یہاں تک پہنچایا، معروف آرکیٹیکٹ ہارون رشید

پمز سانحہ: ’ایک شخص کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے پورے ہیلتھ سسٹم کو دیکھنا ہوگا‘، پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزمان

کالم / تجزیہ

ہم کیوں لکھتے ہیں؟

کیا امریکا ہر جنگ جیت سکتا ہے؟

جب فیصلے خوف کے تابع ہوجائیں