امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ایران نے امریکا سے رابطہ کیا ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر معاہدہ طے کرنے کی ’شدید خواہش‘ رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات اہم پیشرفت، وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے باعث یہ سب ممکن ہوا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تہران کی جانب سے موصول ہونے والے پیغامات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایک نئی ڈیل کے لیے بے تاب ہیں، سابقہ مذاکرات میں بہت سی باتوں پر سمجھوتہ ہو چکا تھا اور امریکی وفد نے بہتر انداز میں بات چیت کی، تاہم ایران کے برے رویے اور یورینیم کے معاملے پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے ڈیڈ لاک پیدا ہوا۔
صدر ٹرمپ نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امریکا کسی بھی ملک کی بلیک میلنگ قبول نہیں کرے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ہم ایران کے ساتھ بہت گہرے مذاکرات میں ہیں، ہر صورت کامیاب ہوں گے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ
عالمی تجارتی گزرگاہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دنیا کو آبنائے ہرمز کی ضرورت ہے اور وہاں ناکہ بندی شروع کر دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد تیل بردار بحری جہاز امریکا کے لیے تیل لے کر آ رہے ہیں اور اگرچہ کئی ممالک نے ایران کی ناکہ بندی میں مدد کی پیشکش کی ہے، لیکن امریکا کو اس کام کے لیے کسی کی مدد کی ضرورت نہیں۔
اس موقع پر صدر ٹرمپ نے ایک نئی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے بعد اب کیوبا کی باری ہے، جبکہ ایران کے پاس موجود افزودہ یورینیم کو بھی ہر صورت حاصل کر لیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کو ایک ناکام ریاست قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کے عوام اور خاص طور پر کیوبا-امریکنز کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا ہے، جس کا اب حساب لیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ بندی کے حوالے سے قوم سے خطاب کیوں نہیں کیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں
خلیجی خطے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر نے بتایا کہ آبنائے ہرمز پر ناکہ بندی شروع کر دی گئی ہے تاکہ ایران کو دنیا کو بلیک میل کرنے سے روکا جا سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اس ناکہ بندی کے لیے کسی دوسرے ملک کی مدد کی ضرورت نہیں کیونکہ امریکہ اب تیل اور گیس کی پیداوار میں دنیا میں سب سے آگے ہے اور کئی بحری جہاز امریکہ سے تیل لینے کے لیے آرہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے پوپ لیو کے حوالے سے معذرت کرنے سے بھی انکار کیا اور کہا کہ پوپ ایران کے معاملے پر غلط موقف رکھتے ہیں، جبکہ امریکا میں قانون کی حکمرانی اور جرائم میں کمی ان کی ترجیح ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو دھمکی
اس کے علاوہ انہوں نے اعلان کیا کہ 14 جون کو وائٹ ہاؤس میں ایک بڑا یو ایف سی مقابلہ منعقد کیا جائے گا جس کے لیے خصوصی ایرینا تعمیر کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے 2020 کے انتخابات کے حوالے سے اپنے پرانے موقف کو دہراتے ہوئے اسے دھاندلی زدہ قرار دیا اور کہا کہ اگر ملک میں صحیح قیادت ہوتی تو یہ تمام عالمی مسائل بہت پہلے حل ہو چکے ہوتے۔













