امریکا اور ایران کے مذاکرات کار اس ہفتے دوبارہ اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں تاکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کی صدرِ مملکت سے ملاقات، امریکا ایران مذاکرات پر تفصیلی بریفنگ
امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں جبکہ پاکستان ایک بار پھر اس عمل میں مرکزی سفارتی کردار ادا کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ یہ پیشرفت مختلف عالمی خبر رساں اداروں رائٹرز، بلومبرگ اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس میں سامنے آئی ہے۔
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والے مذاکرات کامیاب نہ ہوسکنے کے بعد اب اس کے پاکستان میں دوبارہ انعقاد کے امکانات موجود ہیں اور وفود اسلام آباد پہنچ سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مذاکرات کا نتیجہ نہ نکلنے کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی جس کے نتیجے میں امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر ناکہ بندی عائد کر دی۔
دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق مذاکرات کار اس ہفتے دوبارہ اسلام آباد میں ملاقات پر غور کر رہے ہیں تاکہ حالیہ کشیدگی اور جنگی صورتحال کو کم کرنے کے لیے بات چیت دوبارہ شروع کی جا سکے۔
Iran is considering a short-term pause to shipments through the Strait of Hormuz to avoid testing a US blockade and scuppering a fresh round of peace talks, according to a person familiar with the Tehran’s deliberations. https://t.co/IerJJw5XLe
— Bloomberg (@business) April 14, 2026
بلومبرگ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کے دوسرے دور پر غور جاری ہے جبکہ ایران عارضی طور پر آبنائے ہرمز سے شپمنٹس روکنے کے آپشن پر بھی غور کر رہا ہے تاکہ کشیدگی کم ہو اور سفارتی راستہ ہموار ہو سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ایک ممکنہ میزبان مقام کے طور پر زیر غور ہے تاہم دیگر مقامات پر بھی بات ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیے: ایران سے مذاکرات کا دوسرا دور: امریکی صدر ٹرمپ کے بذات خود اسلام آباد آنے کی خبریں زیر گردش
اسی طرح ایسوسی ایٹڈ پریس نے امریکی حکام اور ایک ثالث ملک کے سفارت کار کے حوالے سے بتایا ہے کہ مذاکرات جمعرات تک دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں اور دونوں فریق اصولی طور پر بات چیت جاری رکھنے پر متفق ہیں۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان اس پورے سفارتی عمل میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے اور پہلے دور کی میزبانی بھی اسلام آباد میں کی گئی تھی جس کے بعد اب دوبارہ اسی شہر میں مذاکرات کی واپسی کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
دوسری جانب سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگرچہ صورتحال کشیدہ ہے تاہم دوبارہ مذاکرات کی اطلاعات نے عالمی منڈیوں میں کچھ حد تک اعتماد بحال کیا ہے۔ اسی امید کے باعث تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی ہے اور عالمی بینچ مارک آئل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا اگلا مرحلہ بھی پاکستان میں ہونے کا امکان ہے، سفارتی ماہرین
ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات دوبارہ شروع ہوتے ہیں تو خطے میں کشیدگی کم ہونے اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر دباؤ میں کمی آنے کا امکان ہے۔












