پنجاب پولیس میں تعینات لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کے مبینہ اغوا کا کیس ڈراپ ہو گیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق عائشہ نے گھر والوں کی رضامندی کے بغیر اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا، والد کی مدعیت میں درج اغوا کا مقدمہ اب خارج کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق 11 اپریل کی رات لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز میں رات 11 بجے سے صبح 7 بجے تک کی ڈیوٹی پر مامور تھیں۔ وہ گھر سے ڈیوٹی کے لیے نکل تو گئیں، مگر اپنے ڈیوٹی پوائنٹ پر نہ پہنچیں۔ خاندان نے فوری طور پر ان کے اغوا کا الزام لگاتے ہوئے قلعہ گجر سنگھ تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی۔
یہ بھی پڑھیں: چکوٹھی آزاد کشمیر کی خاتون اسلام آباد سے اغوا، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے بازیاب،قصہ کیا نکلا؟
پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایس ڈی پی او سول لائنز کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوگیا۔
تفتیشی ٹیم نے سب سے پہلے سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کیے۔ لیڈی کانسٹیبل کس وقت گھر سے نکلی اور کہاں گئیں، سب کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اکٹھی کی گئیں۔ جس شخص کے ساتھ عائشہ ریاض غائب ہوئی تھیں اس کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ پھر پولیس موبائل لوکیشنز نکلوانے میں کامیاب ہوئی اور لیڈی کانسٹیبل کو ٹریس کرلیا۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو انکشاف ہوا کہ عائشہ ریاض کسی اغوا کا شکار نہیں ہوئیں بلکہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کرلی تھی۔ عائشہ کے بیان کے مطابق گھر والے اس نکاح پر راضی نہیں تھے اور انہیں زبردستی طلاق لینے پر مجبور کررہے تھے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ دراصل ذاتی رنجش اور نکاح پر ناراضی کی بنیاد پر درج کرایا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان سے اغوا کی گئی خاتون کو بازیاب کرالیا، 2 دہشتگرد ہلاک
ایس پی سول لائنز چودھری اثر علی نے بتایا کہ عائشہ 11 اپریل کو ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوئیں، جس پر انہیں محکمانہ طور پر غیر حاضر قرار دیا گیا تھا۔ اب ان کے بیان کی روشنی میں اغوا کا مقدمہ خارج کرنے کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
پولیس نے فوری طور پر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر عائشہ ریاض کی تلاش کی تھی۔ اب کیس کے حقائق سامنے آنے کے بعد قانونی طور پر مقدمہ خارج کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔
عائشہ ریاض کی طرف سے دیا گیا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے اور ان کی موجودگی میں مزید تفتیش جاری رکھی جاری ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے جھوٹے مقدمات سے بچا جاسکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی جدید ٹیکنالوجی اور فوری رسپانس کی بدولت یہ کیس صرف چند دنوں میں حل ہوگیا۔












