لاہور سے لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کا مبینہ اغوا کیس حل ہو گیا؟

بدھ 15 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پنجاب پولیس میں تعینات لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض کے مبینہ اغوا کا کیس ڈراپ ہو گیا ہے۔ پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق عائشہ نے گھر والوں کی رضامندی کے بغیر اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا، والد کی مدعیت میں درج اغوا کا مقدمہ اب خارج کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق 11 اپریل کی رات لیڈی کانسٹیبل عائشہ ریاض قلعہ گجر سنگھ پولیس لائنز میں رات 11 بجے سے صبح 7 بجے تک کی ڈیوٹی پر مامور تھیں۔ وہ گھر سے ڈیوٹی کے لیے نکل تو گئیں، مگر اپنے ڈیوٹی پوائنٹ پر نہ پہنچیں۔ خاندان نے فوری طور پر ان کے اغوا کا الزام لگاتے ہوئے قلعہ گجر سنگھ تھانے میں ایف آئی آر درج کرائی۔

یہ بھی پڑھیں: چکوٹھی آزاد کشمیر کی خاتون اسلام آباد سے اغوا، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے بازیاب،قصہ کیا نکلا؟

پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے ایس ڈی پی او سول لائنز کی سربراہی میں خصوصی ٹیم تشکیل دی، جس کے بعد تحقیقات کا آغاز ہوگیا۔

تفتیشی ٹیم نے سب سے پہلے سیف سٹی کیمروں اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے شواہد اکٹھے کیے۔ لیڈی کانسٹیبل کس وقت گھر سے نکلی اور کہاں گئیں، سب کی سی سی ٹی وی فوٹیجز اکٹھی کی گئیں۔ جس شخص کے ساتھ عائشہ ریاض غائب ہوئی تھیں اس کا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا۔ پھر پولیس موبائل لوکیشنز نکلوانے میں کامیاب ہوئی اور لیڈی کانسٹیبل کو ٹریس کرلیا۔

تحقیقات کے دوران پولیس کو انکشاف ہوا کہ عائشہ ریاض کسی اغوا کا شکار نہیں ہوئیں بلکہ انہوں نے اپنی مرضی سے شادی کرلی تھی۔ عائشہ کے بیان کے مطابق گھر والے اس نکاح پر راضی نہیں تھے اور انہیں زبردستی طلاق لینے پر مجبور کررہے تھے۔ پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ مقدمہ دراصل ذاتی رنجش اور نکاح پر ناراضی کی بنیاد پر درج کرایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان سے اغوا کی گئی خاتون کو بازیاب کرالیا، 2 دہشتگرد ہلاک

ایس پی سول لائنز چودھری اثر علی نے بتایا کہ عائشہ 11 اپریل کو ڈیوٹی پر حاضر نہیں ہوئیں، جس پر انہیں محکمانہ طور پر غیر حاضر قرار دیا گیا تھا۔ اب ان کے بیان کی روشنی میں اغوا کا مقدمہ خارج کرنے کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے، جبکہ مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔

پولیس نے فوری طور پر تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا کر عائشہ ریاض کی تلاش کی تھی۔ اب کیس کے حقائق سامنے آنے کے بعد قانونی طور پر مقدمہ خارج کرنے کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

عائشہ ریاض کی طرف سے دیا گیا بیان ریکارڈ کر لیا گیا ہے اور ان کی موجودگی میں مزید تفتیش جاری رکھی جاری ہے تاکہ مستقبل میں اس طرح کے جھوٹے مقدمات سے بچا جاسکے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی جدید ٹیکنالوجی اور فوری رسپانس کی بدولت یہ کیس صرف چند دنوں میں حل ہوگیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

عدنان صدیقی نے بانسری پر اے آر رحمان اور شنکر جے کشن کی مشہور دھنیں بجا کر صارفین کو حیران کردیا

باغبانپورہ میں اسکول کی چھت گر گئی، 10 سالہ بچہ جاں بحق، 4 مزدور زخمی

مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے اذان پر پابندی، اسرائیلی پارلیمان سے متنازع بل  کی ابتدائی منظوری

سام سنگ کا نیا فون لانچ کے لیے تیار،کیا یہ اب تک کا سب سے جدید فون ثابت ہوگا؟

واٹس ایپ گروپ ایڈمن ہر پوسٹ کا ذمہ دار نہیں، لاہور ہائیکورٹ کا اہم ترین فیصلہ

ویڈیو

سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی غیر قانونی، بھارت پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے، دفتر خارجہ

صادقین کی 96ویں سالگرہ پر پاکستان پوسٹ کا دنیا کا طویل ترین یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری

پی ٹی آئی کی اندرونی رسہ کشی، خیبرپختونخوا کے عوام پریشان

کالم / تجزیہ

بھارتی آبی جارحیت: چند سنگین قانونی پہلو

دریاؤں کو بہنے دو

تفرقہ اور نام نہاد پوڈکاسٹرز