برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دباؤ کے باوجود ایران کے معاملے پر اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے برطانیہ کے ساتھ گزشتہ سال طے پانے والے تجارتی معاہدے کی شرائط تبدیل کرنے کا اشارہ دیا، کیونکہ اسٹارمر نے ایران جنگ میں برطانیہ کی شمولیت کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی برطانیہ سے تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی دھمکی
اسکائی نیوز کو دیے گئے ایک رات گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ برطانیہ اور امریکا کے درمیان طے شدہ تجارتی معاہدے کی شرائط کسی بھی وقت تبدیل کی جا سکتی ہیں۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات اس وقت مزید کشیدہ ہو گئے جب اسٹارمر نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع میں برطانیہ کی شمولیت کے امکان کو رد کر دیا۔
UK PM Starmer hits back after Trump’s trade deal threat over Iran conflict https://t.co/DNDoLBmLwN
— The Tribune (@thetribunechd) April 15, 2026
ہاؤس آف کامنز میں وزیراعظم کے سوالات کے دوران خطاب کرتے ہوئے اسٹارمر نے ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ پر ان کا مؤقف ابتدا سے واضح ہے۔
’ہم اس جنگ میں نہیں گھسیٹیں جائیں گے، یہ ہماری جنگ نہیں ہے۔‘
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ان پر بہت دباؤ ڈالا گیا کہ وہ اپنا راستہ بدلیں، اور اس دباؤ میں وہ بھی شامل تھا جو گزشتہ رات سامنے آیا۔
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے برطانیہ کا بڑا اقدام، 35 ممالک کا اجلاس طلب
’میں اپنا فیصلہ نہیں بدلوں گا۔ میں جھکوں گا نہیں۔ یہ ہمارے قومی مفاد میں نہیں کہ ہم اس جنگ میں شامل ہوں، اور ہم ایسا نہیں کریں گے۔ میں جانتا ہوں میں کہاں کھڑا ہوں۔‘
دوسری جانب پارلیمنٹ میں بحث کے دوران اسٹارمر کی کنزرویٹو رہنما کیمی باڈینوخ سے بھی سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
باڈینوخ نے حکومت سے دفاعی اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ صرف اضافہ بتانا کافی نہیں بلکہ واضح منصوبہ پیش کیا جائے۔
مزید پڑھیں: نیٹو اتحادیوں کا ٹرمپ کی ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی میں شامل ہونے سے انکار
اس پر اسٹارمر نے جواب دیا کہ ان کی حکومت نے 18 سال بعد پہلی بار دفاعی بجٹ کا تفصیلی جائزہ شروع کیا ہے اور یہ قومی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران جنگ میں شامل ہونے کا مطالبہ کر رہی ہے، جبکہ حکومت نے ابتدا سے واضح کر دیا تھا کہ برطانیہ اس جنگ میں نہیں جائے گا۔
اسٹارمر نے کہا کہ جب انہوں نے یہ مؤقف پارلیمنٹ میں پیش کیا تو اپوزیشن نے اس پر شور مچاتے ہوئے مخالفت کی تھی۔













