ملک میں جاری توانائی بحران کے دوران ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی) نے خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں تیل اور گیس کے بڑے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا ہے جسے ملکی تاریخ کی سب سے بڑی دریافت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماری انرجیز کی وزیرستان بلاک میں تیل و گیس کے نئے ذخائر کی دریافت
او جی ڈی سی کے ترجمان کے مطابق یہ دریافت نشپہ بلاک میں واقع بازگئی ایکس-1 کنویں سے ہوئی، جسے پاکستان کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اس وقت کنواں یومیہ 15,005 بیرل تیل اور 45.36 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ گیس پیدا کر رہا ہے۔
مزید پڑھیے: کوہاٹ میں تیل و گیس کے ذخائر دریافت: وزیراعظم کی مزید تلاش کی ہدایت
کمپنی نے ہدف مقرر کیا ہے کہ سنہ 2028 تک تیل کی پیداوار کو بڑھا کر 25,000 بیرل یومیہ تک پہنچایا جائے گا جبکہ گیس کی پیداوار 60 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ تک لے جانے کا منصوبہ ہے۔ اسی طرح ایل پی جی کی پیداوار بھی بڑھا کر 200 میٹرک ٹن یومیہ تک کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
وزیر مملکت برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اس دریافت کو ملکی توانائی سلامتی کے لیے اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے سے سالانہ 329 ملین ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے گا۔
مزید پڑھیں: آرامکو نے سعودی عرب میں تیل اور گیس کے 14 نئے ذخائر دریافت کرلیے
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی دریافتوں سے مقامی ذخائر میں اضافہ ہوگا اور درآمدی ایندھن پر انحصار کم ہو گا جس سے توانائی کے بحران میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔














