وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات کے دوسرے مرحلہ پاکستان میں ہونے اور معاہدہ طے ہوجانے کے امکانات روشن ہیں اور اس معاملے میں واحد ثالث پاکستان ہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ معمولی نہیں وسیع تر معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، جے ڈی وینس
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اس حوالے سے بات چیت جاری ہے اور امریکا کو معاہدے کے امکانات کے بارے میں مثبت توقعات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غالب امکان ہے آئندہ مذاکرات کا اگلا دور کہ اسلام آباد میں منعقد ہوگا۔
انہوں نے جنگ بندی میں توسیع کے لیے امریکا کی جانب سے کسی درخواست سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط رپورٹنگ قرار دیا اور کہا کہ اس وقت ایسی کوئی بات درست نہیں ہے۔
کیرولین لیویٹ کا کہنا تھا کہ امریکا ان مذاکرات میں مسلسل مصروف ہے اور نائب صدر و صدر کی حالیہ گفتگو سے بھی واضح ہے کہ ایران کے ساتھ بات چیت تعمیری اور نتیجہ خیز رہی ہے۔
مزید پڑھیے: مستقل بنیادوں پر آبنائے ہرمز کھولنے پر چین مجھ سے خوش ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
ترجمان وائٹ ہاؤس نے اس موقعے پر پاکستان اور اس کی قیادت کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اس عمل میں ایک بہترین ثالث کا کردار ادا کیا ہے اور امریکا اس کی کوششوں اور دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ کئی ممالک نے اس عمل میں مدد کی پیشکش کی تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نزدیک پاکستان کے ذریعے رابطے کو جاری اور مؤثر بنانا زیادہ اہم ہے اس لیے مذاکرات کا سلسلہ اسی چینل کے تحت آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں پاکستان ایک اہم اور واحد ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔
کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ دونوں ممالک جنگ بندی سے متعلق پاکستان کی سنجیدہ سفارتی کوششوں کو سراہتے ہیں۔
ترجمان وائٹ ہاؤس کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری ہے اور اب تک کی بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز رہی ہے۔
کیرولین لیویٹ نے کہا کہ مذاکرات کا اگلا مرحلہ ممکنہ طور پر اسلام آباد میں منعقد ہو سکتا ہے جہاں فریقین مزید پیش رفت کی توقع رکھتے ہیں۔
مزید پڑھیں: اسلام آباد مذاکرات کے بعد بھی پاکستان کے ذریعے امریکا سے رابطے جاری ہیں، ایران
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی جانب سے جنگ بندی میں توسیع کی درخواست سے متعلق گردش کرنے والی خبریں درست نہیں ہیں اور اس حوالے سے کوئی باضابطہ اقدام نہیں کیا گیا۔














