اقوامِ متحدہ میں پاکستان نے ایک بار پھر اپنے مؤقف کو دہراتے ہوئے سلامتی کونسل میں ویٹو پاور کے خاتمے یا اس پر سخت پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ مستقل اراکین کی تعداد میں کسی بھی اضافے کی سخت مخالفت کی ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل اصلاحات سے متعلق بین الحکومتی مذاکرات (IGN) کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان غیر مستقل نشستوں میں اضافے کا حامی ہے تاکہ ویٹو پاور کے اثر کو متوازن کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ منتخب اراکین کی تعداد بڑھانے سے طاقت کا توازن مستقل اراکین کے حق میں جھکاؤ کم ہوگا۔ ان کے مطابق سلامتی کونسل میں اہم عالمی معاملات پر تعطل کی بڑی وجہ مستقل اراکین کی جانب سے ویٹو پاور کا غلط یا بے جا استعمال ہے۔
سفیر عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ ویٹو پاور میں توسیع یا نئے مستقل اراکین کو یہ اختیار دینا مسائل کو مزید بڑھائے گا، اس لیے پاکستان اس کی اصولی طور پر مخالفت کرتا ہے۔
In our view, the most realistic way to raise the political cost of veto, and to counter-balance its blocking power, is not by creating new vetoes, but by increasing the number of elected members of the Security Council.
Pakistan also supports efforts to enhance accountability… https://t.co/ZIxDXHiMpK
— Asim Iftikhar Ahmad, PR of Pakistan to the UN (@PakistanPR_UN) April 15, 2026
انہوں نے بتایا کہ سلامتی کونسل اصلاحات پر باضابطہ مذاکرات 2009 سے جاری ہیں، جن میں رکنیت کی اقسام، ویٹو پاور، علاقائی نمائندگی، کونسل کے حجم اور اس کے طریقہ کار جیسے اہم نکات شامل ہیں۔
پاکستان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اٹلی اور پاکستان کی قیادت میں قائم ’یونائٹنگ فار کنسینسس‘ گروپ مستقل نشستوں میں اضافے کے خلاف ہے، جبکہ بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل G-4 گروپ مستقل نشستوں کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔
متبادل تجویز کے طور پر یونائٹنگ فار کنسینسس گروپ نے طویل المدت کے لیے منتخب ہونے والی نشستوں کا نیا ماڈل پیش کیا ہے، جس میں دوبارہ انتخاب کی گنجائش بھی ہو۔
مزید پڑھیں: اسرائیلی حملے علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ، سلامتی کونسل میں پاکستان کا انتباہ
پاکستانی مندوب نے کہا کہ ویٹو پاور آج کے دور میں ایک فرسودہ تصور بن چکا ہے اور اس کے خلاف عالمی سطح پر مضبوط رائے موجود ہے، اس کے باوجود اس اختیار کو بڑھانے کی تجاویز دی جا رہی ہیں، جو ایک تضاد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سلامتی کونسل کی اصلاحات جامع ہونی چاہئیں اور ویٹو پاور سمیت تمام معاملات کو ایک ساتھ حل کیا جانا چاہیے، جبکہ اس کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی بڑھانے کی ضرورت ہے۔














