غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی پر عائد 4 فیصد ٹیکس غیرقانونی قرار

منگل 2 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وفاقی آئینی عدالت نے آئندہ وفاقی بجٹ سے چند روز قبل حکومت کو ریونیو کی مد میں بڑا جھٹکا دیتے ہوئے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔

جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31 اے میں ابہام موجود ہے، جس کی بنیاد پر پولٹری فیڈ ملز مالکان سے اضافی ٹیکس وصول نہیں کیا جا سکتا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق حکومت نے سال 2024 کے فنانس ایکٹ کے تحت غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے والی فیڈ ملز پر 4 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: سرکاری ملازمین کی سینیارٹی سے متعلق وفاقی آئینی عدالت نے بڑا فیصلہ سنا دیا

تاہم عدالت نے قرار دیا کہ قانون کے تحت پولٹری فارمز کو ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے، اور اسی بنیاد پر وہ رجسٹریشن کے بھی پابند نہیں ہیں۔

وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل قانونی تحفظ فراہم کرتا ہے، لہٰذا جب رجسٹریشن کی کوئی قانونی پابندی موجود نہیں تو پولٹری فارمز یا انہیں فیڈ فراہم کرنے والی ملز کو سزا یا اضافی ٹیکس کا سامنا نہیں کرنا چاہیے۔

مزید پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ، مری میں 577 کنال زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کرنے کے خلاف دائر اپیلیں خارج

عدالت نے مزید قرار دیا کہ ٹیکس قوانین میں موجود ابہام کا بوجھ ٹیکس دہندگان پر نہیں ڈالا جا سکتا، اس لیے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی قانون کے مطابق نہیں۔

فیصلے میں وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا وہ فیصلہ بھی کالعدم قرار دے دیا جس میں پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ پولٹری فیڈ ملز مالکان نے حکومت کی جانب سے اضافی ٹیکس کی وصولی کے اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا تھا، جس پر وفاقی آئینی عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے ٹیکس وصولی کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp