وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد کی کچی آبادیوں کے مسئلے پر اہم پیش رفت کرتے ہوئے سی ڈی اے کو چار ہفتوں میں ریگولرائزیشن پالیسی بنانے کا حکم دے دیا، جبکہ سماعت کے دوران عملدرآمد اور بے دخلیوں پر شدید سوالات اٹھائے گئے۔
چیف جسٹس امین الدین خان اور جسٹس ارشد حسین شاہ پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس میں کچی آبادیوں کے مکینوں کی جانب سے فیصل صدیقی عدالت میں پیش ہوئے۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے لیے کوئی مخصوص جگہ مختص کی گئی ہے اور اس کیس میں درخواست گزار کی بنیادی استدعا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن: ترقی یا انسانی بحران؟
فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ 1995 سے اب تک کی ہاؤسنگ پالیسیوں میں کچی آبادیوں کو تسلیم کیا گیا ہے اور یہ کوئی رحم کی اپیل نہیں بلکہ شہریوں کا جائز حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد ان آبادیوں میں رہائش پذیر ہیں اور انہیں بغیر متبادل کے بے دخل کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد کے ماسٹر پلان میں بھی بڑی تعداد میں آبادی کچی بستیوں میں رہتی ہے، جبکہ 2016 کے بعد سے اب تک کوئی مؤثر پالیسی نہیں بنائی جا سکی اور کئی مقامات پر راتوں رات مکانات مسمار کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے عدالت کو بتایا کہ ماضی میں عدالتی فیصلوں کے ذریعے کچی آبادیوں کو تسلیم کیا جا چکا ہے، تاہم سی ڈی اے کے وکیل قاسم چوہان نے مؤقف اختیار کیا کہ بعض مقامات پر کچی آبادیوں کے نام پر دی گئی زمین کا غلط استعمال بھی ہو رہا ہے، جس کے باعث انتظامی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔
سی ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ چیئرمین کی تبدیلی کے باعث پالیسی سازی میں تاخیر ہوئی، تاہم آئندہ بورڈ اجلاس میں پالیسی کی منظوری متوقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے بری امام میں سی ڈی اے کا تجاوزات کیخلاف آپریشن، پولیس فائرنگ سے حالات کشیدہ
عدالت نے ریمارکس دیے کہ اگر پالیسی موجود ہے تو اس پر عملدرآمد کیوں نہیں ہو رہا، اور واضح کیا کہ اس اہم معاملے کا حل فوری طور پر نکالا جانا چاہیے۔
بعد ازاں عدالت نے سی ڈی اے کو 4 ہفتوں میں پالیسی بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔














