اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں درختوں کی کٹائی کے خلاف کیس کی سماعت کے دوران کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے مؤقف اور ریسرچ پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر آئندہ کسی بھی درخت کی کٹائی ہوئی تو اسے توہین عدالت تصور کیا جائے گا۔ سماعت جسٹس خادم حسین سومرو نے کی، جنہوں نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد کو خوبصورت اور سرسبز رکھنا عدالت کی ترجیح ہے اور کسی صورت غیر ضروری درختوں کی کٹائی برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ نے سی ڈی اے کو اتاترک ایونیو پر درختوں کی کٹائی سے روک دیا
سماعت کے دوران سی ڈی اے کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف نائن پارک سے 12 ہزار 800 پیپر ملبری درخت کاٹے گئے تھے جن کی جگہ 40 ہزار نئے درخت لگائے گئے ہیں، جبکہ وزارتِ موسمیاتی تبدیلی اور مختلف آرا کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ تاہم عدالت نے اس مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے استفسار کیا کہ کس مستند سائنسی تحقیق کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا اور کیا یہ ریسرچ عالمی معیار پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بغیر مستند ماحولیاتی تحقیق کے بڑے پیمانے پر درختوں کی کٹائی قابلِ قبول نہیں، اور یہ کہ ’لا آف نیچر‘ بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ صحت مند درختوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ عدالت نے سی ڈی اے کی جانب سے پیش کی گئی تحقیق پر بھی سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر فیصلے سائنسی بنیاد کے بغیر کیے گئے تو یہ ناقابلِ قبول ہیں۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ اگر کسی سی ڈی اے افسر کی جانب سے عدالتی حکم کی خلاف ورزی یا درختوں کی غیر قانونی کٹائی ہوئی تو اس کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ عدالت نے مزید کہا کہ اب آئندہ سماعت پر مستند ماحولیاتی ماہر کو پیش کیا جائے تاکہ معاملے کا سائنسی پہلو واضح ہو سکے، جبکہ سی ڈی اے کو بھی مکمل دلائل کے ساتھ عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائی کورٹ: درختوں کی کٹائی کے معاملے پر توہینِ عدالت کی درخواست کی سماعت، رپورٹ طلب
عدالت نے سماعت کے دوران سی ڈی اے کے رویے پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی اداروں کو ایسے اہم معاملات میں زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ کیس کی مزید سماعت آئندہ جمعرات تک ملتوی کر دی گئی۔














