ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور مذاکرات کے عمل میں پاکستان کی سہولت کاری کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے، جبکہ سفارتی حلقوں نے پاکستان کے تعمیری اور استحکام پیدا کرنے والے کردار کی تحسین کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی سعودی ولی عہد سے ملاقات، امن کوششوں، دفاعی تعاون اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
ترجمان کے مطابق اسلام آباد، تہران اور واشنگٹن کے درمیان مسلسل پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، اور پاکستان اس پورے عمل میں بطور سہولت کار فعال کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیف آف ڈیفنس فورسز جنرل عاصم منیر نے متعلقہ فریقین کے ساتھ رابطے برقرار رکھے ہوئے ہیں، جبکہ کل چیف آف ڈیفنس فورسز کے تہران پہنچنے کا بھی ذکر کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مذاکرات شروع ہونے سے قبل اور بعد میں وزیراعظم نے مختلف عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے، جن میں قطر، جرمنی، اٹلی، برطانیہ، جاپان، کینیڈا اور دیگر ممالک شامل ہیں، جنہوں نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا۔ ترجمان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات تقریباً 21 گھنٹے جاری رہے جبکہ مجموعی مصروفیات 30 گھنٹے تک رہیں، اور نائب وزیراعظم نے اس موقع پر واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور ایران معاہدے کے قریب، جنگ کے بعد سمجھوتہ ناگزیر ہے، سی این این کا دعویٰ
ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم 15 سے 18 اپریل کے دوران 3 ممالک کے دورے پر ہیں اور ترکیہ میں انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت کریں گے، جبکہ گزشتہ رات سعودی عرب میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کے دوران مذاکرات سے متعلق پیشرفت بھی شیئر کی گئی۔
پریس بریفنگ میں ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا کردار ’نہ کوئی بڑی پیش رفت، نہ ہی کوئی ناکامی‘ کے اصول کے تحت تعمیری رہا ہے، اور فریقین کی جانب سے مذاکرات میں شامل تمام عناصر قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بطور سہولت کار معلومات کو صیغہ راز میں رکھا کیونکہ یہ عمل کی حساسیت کا تقاضا تھا، تاہم میڈیا کو مکمل طور پر نظرانداز نہیں کیا گیا اور ملکی و بین الاقوامی میڈیا کے لیے یکساں پالیسی اپنائی گئی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ اس عمل میں یہ بنیادی نکتہ اہم ہے کہ دونوں فریقین مذاکرات کے لیے آمادہ ہیں، جبکہ اگلے مرحلے کے حوالے سے فی الحال کسی پیشرفت پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران مذاکرات کے اثرات، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس میں اضافہ
انہوں نے لبنان میں سیزفائر، جوہری ہتھیاروں پر گفتگو اور خطے کی مجموعی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امن کے لیے مذاکرات کا تسلسل ضروری ہے۔ افغانستان کے ساتھ ارومچی میں ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو دہشتگردی کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔
پریس بریفنگ کے آخر میں ترجمان نے بھارت سے متعلق مختلف معاملات پر بھی تشویش کا اظہار کیا، جن میں سمجھوتہ ایکسپریس کیس، کشمیر میں حالیہ واقعات اور مبینہ قانونی تبدیلیوں پر تحفظات شامل تھے، اور کہا کہ بین الاقوامی برادری کو بھارت میں انسانی حقوق کی صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے۔











