حالیہ جنگ اور جنگ بندی کے آخری دنوں میں امریکا اور ایران کے پاس معاہدے کے سوا کوئی خاص آپشن باقی نہیں بچا، اور دونوں فریق ایسے سمجھوتے کی تلاش میں ہیں جسے وہ اپنی اپنی کامیابی کے طور پر پیش کر سکیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے تفصیلی تجزیے میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے مذاکراتی دور جو طویل ہونے کے باوجود کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ سکا، دراصل امریکا کی جانب سے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کی ایک کوشش تھا۔ اس کے فوراً بعد ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی سے واضح ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس پہلے ہی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر کام کر رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کی کامیابی کے لیے پاکستان متحرک، وزیراعظم سعودی عرب اور فیلڈ مارشل ایران پہنچ گئے
ماہرین کے مطابق اگر یہ ناکہ بندی مکمل طور پر مؤثر نہ بھی ہو، تب بھی ایران کی معیشت اور اس کے تیل پر انحصار کرنے والے اتحادیوں، خصوصاً چین، پر اس کے منفی اثرات پڑیں گے۔
سی این این کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں، کیونکہ امریکا میں مہنگائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور ان کے حامی حلقوں کا دباؤ انہیں فوری نتائج کی طرف دھکیل رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کی غیر یقینی اور بدلتی ہوئی حکمت عملی کبھی مذاکراتی چال محسوس ہوتی ہے اور کبھی بے ترتیبی، لیکن اس سے یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ انہیں معاہدے کی اشد ضرورت ہے۔

دوسری جانب ایران کی صورتحال اس سے بھی زیادہ نازک بتائی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 39 دن کی شدید بمباری میں 13 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس سے ایران کے انفراسٹرکچر، فوجی نظام اور قیادت کو شدید نقصان پہنچا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور کی قیادت میں بار بار تبدیلیاں آئیں جبکہ ملک کو خطے میں تنہائی کا سامنا ہے۔ ایران نے اگرچہ مزاحمت کا تاثر دیا، لیکن حقیقت میں وہ غیر معمولی کمزوری کی حالت میں ہے۔
سی این این کے مطابق ایران کی بقا اور مزاحمت ہی اس کی اصل طاقت دکھائی دیتی ہے، نہ کہ کوئی واضح فوجی برتری۔ خطے کے کئی ممالک اس سے نالاں ہیں کیونکہ حالیہ کشیدگی نے ان کے امن اور معاشی استحکام کو متاثر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا مذاکرات کی بحالی کا امکان، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے آگئی
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی غیر متوقع واقعے یا سخت گیر عناصر کی مداخلت نہ ہوئی تو مکمل جنگ کے دوبارہ آغاز کے امکانات کم ہیں اور مذاکراتی حل زیادہ ممکن دکھائی دیتا ہے۔ خاص طور پر اس لیے کہ اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کے دوران دونوں فریق کئی معاملات پر حیران کن حد تک قریب نظر آئے۔
اہم نکات میں آبنائے ہرمز کی بحالی شامل ہے، جس پر دونوں فریق اصولی طور پر متفق دکھائی دیتے ہیں، جبکہ اختلافات اب زیادہ تر تفصیلات تک محدود ہو چکے ہیں۔ جوہری افزودگی کے معاملے پر ایران پانچ سالہ پابندی چاہتا ہے جبکہ امریکا بیس سال کا مطالبہ کر رہا ہے، جس میں درمیانی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا ذخیرہ موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں اسے فوری طور پر ہتھیار میں تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ اس مسئلے کا حل عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی، یورینیم کی منتقلی یا اس کی سطح کم کرنے جیسے اقدامات سے نکالا جا سکتا ہے۔
سی این این نے اسرائیل کو اس معاملے میں ’وائلڈ کارڈ‘ قرار دیا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ لبنان اور دیگر علاقوں میں اس کے اتحادی گروہوں کو نشانہ نہ بنایا جائے، جبکہ اسرائیل کی حکمت عملی اور اس کے مستقبل کے اقدامات ابھی واضح نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اصل رکاوٹیں اب ناقابلِ عبور نہیں رہیں بلکہ زیادہ تر سیاسی وقار اور مؤقف کی جنگ ہے، کیونکہ دونوں فریق ایسا معاہدہ نہیں چاہتے جسے وہ اپنی شکست سمجھیں۔ ایران چاہتا ہے کہ اس کی دفاعی طاقت کا تاثر برقرار رہے، جبکہ ٹرمپ بھی اپنے حامیوں کے سامنے ایسا معاہدہ پیش کرنا چاہتے ہیں جو ان کے لیے سیاسی کامیابی ثابت ہو۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا تصادم کس طرف جا رہا ہے؟
سی این این کے مطابق اگرچہ معاہدہ ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کر سکتا ہے، تاہم اس جنگ کے طویل المدتی اثرات ابھی سامنے آنا باقی ہیں، جن میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ ایران کے سخت گیر حلقے اب پہلے سے زیادہ جوہری ہتھیار کی ضرورت محسوس کر سکتے ہیں۔














