امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور لبنان کے رہنما جمعرات کو 34 برس بعد پہلی مرتبہ براہِ راست گفتگو کریں گے، تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کیا، ایک روز بعد جب واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے سفیروں کے درمیان 3 دہائیوں سے زائد عرصے بعد پہلی براہِ راست سفارتی ملاقات ہوئی تھی۔ لبنان اس ملاقات میں اسرائیلی حملوں کے خاتمے کا خواہاں تھا۔
ٹرمپ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ ایک طویل عرصے بعد ممکن ہو رہا ہے، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ مذاکرات میں کون سے رہنما شریک ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت اسرائیل کا سگا بھائی، بھارتی چینلز پر اسرائیل سے غزہ اور لبنان پر حملوں کا مطالبہ
ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائی کو مزید وسعت دینے کا حکم دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل ایک جانب حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گا جبکہ دوسری جانب لبنانی حکومت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے پائیدار امن کے امکانات بھی تلاش کیے جا رہے ہیں۔
دوسری جانب لبنان کی حکومت، جو اس تنازع کا براہِ راست فریق نہیں، جنگ بندی اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کا مطالبہ کر رہی ہے۔
یہ تنازع 2 مارچ کو اس وقت شدت اختیار کر گیا جب ایران کے حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ نے اسرائیل پر راکٹ حملے کیے، جنہیں اسرائیل کی جانب سے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں کے ردعمل کے طور پر بیان کیا گیا۔
اس کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 2 ہزار سے زائد افراد جاں بحق جبکہ تقریباً 12 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی کارروائی بھی شروع کر رکھی ہے، جس کا مقصد ایک نام نہاد ’بفر زون‘ قائم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
لبنان کے دارالحکومت بیروت سے رپورٹنگ کے مطابق ٹرمپ کا بیان لبنان میں متنازع قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک باضابطہ طور پر اب بھی حالتِ جنگ میں ہیں اور ایسے میں براہِ راست بات چیت کو حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے لبنان نے اسرائیلی حملے رکوانے کے لیے پاکستان سے تعاون مانگ لیا
دریں اثنا، سفارتی کوششوں کے باوجود اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ بدھ کے روز جنوبی لبنان کے علاقے میں فضائی حملوں میں 4 میڈیکل اہلکار جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ طبی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
لبنانی حکام کے مطابق 2 مارچ کے بعد سے اسرائیلی کارروائیوں میں درجنوں طبی کارکن ہلاک ہو چکے ہیں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں، تاہم زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ تنازع کا حل پیچیدہ ہے اور کسی بھی ممکنہ جنگ بندی کے لیے مزید پیش رفت درکار ہوگی۔














