ہزاروں سال پرانا فلکیاتی منظر: شہابی بارش 22 اپریل کو عروج پر ہوگی

جمعہ 17 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سال کے اہم فلکیاتی مظاہر میں شمار ہونے والی لائرڈ شہابی بارش رواں ماہ عروج پر پہنچنے والی ہے، جس کا بہترین نظارہ 22 اپریل کی علی الصبح کیا جا سکے گا۔ ماہرین کے مطابق یہ قدیم شہابی بارش نہ صرف سائنسی اہمیت رکھتی ہے بلکہ اس کی تاریخ بھی ہزاروں برس پر محیط ہے۔

رپورٹس کے مطابق لائرڈ شہابی بارش 16 سے 25 اپریل تک جاری رہتی ہے، تاہم اس کا نقطۂ عروج 22 اپریل کی صبح سے قبل کے اوقات میں ہوگا۔ 2026 کو مشاہدے کے لیے موزوں سال قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ چاند آدھی رات کے فوراً بعد غروب ہو جائے گا، جس کے باعث آسمان نسبتاً تاریک ہوگا اور شہابی لکیریں واضح دکھائی دیں گی۔

یہ شہابیاں آسمان پر لیرا (Lyra) کے جھرمٹ سے نکلتی محسوس ہوں گی، جو روشن ستارے ویگا کے قریب شمال مشرقی سمت میں واقع ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر نظارے کے لیے اس مقام سے ہٹ کر آسمان کی جانب دیکھنا چاہیے تاکہ طویل دم والی شہابیاں واضح نظر آئیں۔

یہ بھی پڑھیے آسمان پر نایاب تماشا، رواں ہفتے میٹیور شاور کا شاندار نظارہ کیا جا سکے گا

سائنسی طور پر یہ شہابیاں کومیٹ تھیچر کے چھوڑے گئے ذرات پر مشتمل ہوتی ہیں۔ جب زمین اس ملبے کے راستے سے گزرتی ہے تو یہ ذرات فضا میں داخل ہو کر تیز رفتاری سے جلتے ہیں اور روشنی کی لکیر بناتے ہیں۔

ناسا کے ماہر بل کُک کے مطابق یہ ذرات ایک زاویے سے زمین کے ماحول میں داخل ہوتے ہیں، جسے انہوں نے گاڑی کے اگلے حصے سے ٹکرانے سے تشبیہ دی۔

تاریخی حوالوں کے مطابق لائرڈ شہابی بارش کا پہلا ریکارڈ 687 قبل مسیح میں چینی ماہرین فلکیات نے درج کیا تھا، جبکہ بعد ازاں کوریائی تواریخ میں اسے ’شمال مشرق سے اڑتے ہوئے ستارے‘ قرار دیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے ’کواڈرینٹڈ میٹرو شاور‘ عروج کے قریب، آسمان پر نایاب نظارہ متوقع

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شہابی بارش سے لطف اندوز ہونے کے لیے کسی دوربین یا خاص آلات کی ضرورت نہیں، تاہم بہتر تجربے کے لیے شہری روشنیوں سے دور جانا ضروری ہے۔ آنکھوں کو مکمل طور پر اندھیرے سے ہم آہنگ ہونے میں تقریباً 30 منٹ لگتے ہیں، جس کے بعد آسمانی نظارہ مزید واضح ہو جاتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران لبنان میں اپنی پراکسیز کو فوری روکے ورنہ سخت جواب دیں گے، صدر ٹرمپ کی وارننگ

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

صدر ٹرمپ کی مدبرانہ قیادت کے باعث امریکا ایران مذاکرات ممکن ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف

لائیوپاکستان اور قطر کی ثالثی میں امریکا ایران مذاکرات کا سوئٹزرلینڈ میں آغاز

قاہرہ میں ریجنل-4 ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس ’اسلام آباد مفاہمی یادداشت‘ زیر بحث

ویڈیو

میری زندگی کی 2 اہم ترین شخصیات میں ایک فیلڈ مارشل عاصم منیر ہیں، ان کی قیادت نہ ہوتی توآج ہم یہاں نہ ہوتے، جے ڈی وینس

ایران امریکا مذاکرات: وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی اور ایرانی وفود سے ملاقاتیں

پنجاب حکومت کا بڑا منصوبہ، پنجاب فلم سٹی نے پروڈکشن کے نئے دروازے کھول دیے

کالم / تجزیہ

پاکستانی ’انا‘، ایک خاموش وبا

پاکستان: نام ہی کافی ہے

ایران امریکا معاہدے کے بعد دنیا کیسی ہوگی؟