عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی اصلاحات میں مسلسل پیش رفت کو سراہا ہے۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹرکرسٹالیناجارجیوا نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے اصلاحاتی پروگرام پر مؤثر عمل درآمد نے معاشی استحکام برقرار رکھنے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ کلائمیٹ فائنانسنگ پر مذاکرات کے لیے تیار
انہوں نے یہ بات وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب سے ملاقات کے دوران کہی، جو آئی ایم ایف ورلڈ بینک اسپرنگ میٹنگز 2026 کے موقع پر ہوئی۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مضبوط معاشی پالیسیوں کے ساتھ ساتھ گہری ساختی اصلاحات کا تسلسل پاکستان میں پائیدار اقتصادی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے نہایت ضروری ہے۔
Great to see @Aurangzeb at the #IMFMeetings! Strong program implementation has helped Pakistan maintain macroeconomic stability and build confidence. Sound policies and deeper structural reforms remain key to sustaining growth and raising welfare for all Pakistanis. pic.twitter.com/OdKEgqqdYw
— Kristalina Georgieva (@KGeorgieva) April 15, 2026
دوسری جانب وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے اجلاسوں کے موقع پر قرض دہندگان کے پلیٹ فارم کے اجرا میں بھی شرکت کی۔
وزارت خزانہ کے مطابق انہوں نے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک شدید قرضوں کے دباؤ، بلند شرح سود اور سخت عالمی مالیاتی حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جس سے ان کی ترقی اور پائیدار منصوبوں میں سرمایہ کاری کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ اندرونی اصلاحات ناگزیر ہیں اور ان پر کام جاری ہے، تاہم عالمی مالیاتی نظام کی ساختی رکاوٹیں قرض لینے والے ممالک کے لیے پالیسی سازی کی گنجائش کو محدود کرتی ہیں۔
مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی حکمت عملی پر آئی ایم ایف کا خراج تحسین، پاکستان معاشی استحکام کے کتنا قریب؟
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ قرض دہندگان کا پلیٹ فارم ایک اہم خلا کو پر کرتا ہے، کیونکہ اس سے قبل قرض لینے والے ممالک کے پاس ایسا کوئی مؤثر فورم موجود نہیں تھا۔
’۔۔۔جہاں وہ اپنے تجربات شیئر کر سکیں، خطرات کی نشاندہی کر سکیں اور مشترکہ مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کر سکیں۔‘
انہوں نے واضح کیا کہ یہ پلیٹ فارم کسی مذاکراتی بلاک کے طور پر نہیں بلکہ رضاکارانہ بنیادوں پر قائم ایک فورم ہے، جس کا مقصد باہمی سیکھنے، تجربات کے تبادلے اور عالمی مالیاتی مباحث میں قرض لینے والے ممالک کی آواز کو مضبوط بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف کی جانب سے جاری 1.2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک آف پاکستان میں منتقل
مزید برآں، وزیر خزانہ نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس سے بھی ملاقات کی، انہوں نے پلیٹ فارم کے اجرا میں شرکت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور تعاون کو سراہا۔
ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کے عالمی معیشت پر اثرات، خصوصاً ترقی پذیر ممالک میں خوراک اور توانائی کے تحفظ پر پڑنے والے اثرات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے خطے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہا اور عالمی معاملات میں اس کے مثبت کردار پر اعتماد کا اظہار کیا۔













