ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے بیروت پر حملہ کیا تو پورے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ دوبارہ شدت اختیار کر سکتی ہے اور اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اسرائیلی افواج کو لبنان سے انخلا کرنا ہوگا۔
لبنانی ٹی وی چینل ’المیادین‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے عباس عراقچی نے کہا کہ ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کو لبنان کے محاذ سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ دونوں محاذ آغاز ہی سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران، امریکا اور اسرائیل کشیدگی، آسیان کا فوری جنگ بندی کا مطالبہ
انہوں نے کہا کہ بیروت پر کسی بھی حملے کے خطرناک نتائج ہوں گے اور یہ جنگ کے مکمل دوبارہ آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔ عراقچی کے مطابق ایران کی مسلح افواج اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملے کی صورت میں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ لبنان میں جنگ کے خاتمے کے لیے اسرائیلی افواج کا لبنانی علاقوں سے انخلا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ کا حقیقی خاتمہ اسی وقت ممکن ہوگا جب اسرائیل ان علاقوں کو خالی کرے جن پر اس نے قبضہ کر رکھا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیلی اور لبنانی سفارت کاروں کے درمیان واشنگٹن میں براہِ راست مذاکرات کا دوسرا روز جاری تھا۔ یہ مذاکرات لبنان میں جاری کشیدگی کے آغاز کے بعد ہونے والے چوتھے دور کا حصہ ہیں۔
مزید پڑھیں: ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
دوسری جانب نیتن یاہو نے مذاکرات سے قبل امریکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ان کا اور امریکی صدر کا مشترکہ مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور لبنان کو عسکریت سے پاک بنانا ہے۔
ادھر لبنان کی طاقتور تنظیم حزب اللہ براہِ راست مذاکرات کی مخالفت کر رہی ہے اور اسے اپنے مؤقف کے منافی قرار دے رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے تازہ بیان نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے اور اگر بیروت یا جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں تیز ہوئیں تو مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر وسیع تر جنگ کے خطرے سے دوچار ہو سکتا ہے۔














