پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن ارکان نے گرفتار رکن کلیم اللہ خان کی رہائی نہ ہونے پر شدید احتجاج کیا، پروڈکشن آرڈر جاری ہونے کے باوجود عملدرآمد نہ ہونے پر اپوزیشن نے ایوان سے واک آؤٹ کیا اور نعرے لگاتے ہوئے باہر نکل کر اسمبلی کے مین گیٹ پر دھرنا دے دیا۔
اس سے قبل اپوزیشن رکن رانا آفتاب احمد نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ لوگ ارکان کو کنٹرول کر رہے ہیں، کچھ اراکین کو گرفتار کر لیا گیا لیکن ان کی رہائی ممکن نہیں ہوئی۔ ’ہم باہر جا رہے ہیں، اب نہ کوئی اندر آئے گا نہ اندر سے کوئی باہر جائے گا۔‘
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اسمبلی: حکومت اور اپوزیشن ارکان کے درمیان شدید ہنگامہ آرائی، ’چور چور‘ کے نعرے
رانا آفتاب احمد نے مزید کہا اگر یہ اسمبلی پروڈکشن آرڈر پر عملدرآمد نہیں کروا سکتی تو پھر اس اسمبلی کا کوئی فائدہ نہیں، ارکان اسمبلی کی گرفتاری بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلہ ظہیر اقبال چنڑ نے شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے رانا آفتاب کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ کسی رکن کو کوئی اختیار نہیں کہ وہ دھمکی دے، کسی کی مجال نہیں ہے کہ اسمبلی کے دروازے پر بیٹھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کسی کو آنے جانے نہیں دیں گے۔

صوبائی وزیر عاشق کرمانی نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ارکان مین گیٹ پر بیٹھ کر اراکین کو اندر جانے سے روک رہے ہیں، جو جمہوریت کے خلاف ہے۔ ’یہ اسمبلی ہے، کوئی کالج یا اسکول نہیں کہ کسی کو بھی روک دیا جائےـ، راجہ شوکت بھٹی نے بھی اپوزیشن کے رویے کی مذمت کی۔
تاہم صوبائی حکومت نے فوری طور پر امن کی کوشش کی اور امجد علی جاوید، رانا محمد ارشد اور شہریار رانا پر مشتمل وفد باہر بھیجا، وفد کی کوششوں سے اپوزیشن ارکان راضی ہوئے اور ایوان میں واپس آ گئے۔
مزید پڑھیں: پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ’اوو اوو’ کی آوازیں نکال کر احتجاج
حکومتی رکن رانا ارشد نے یقین دہانی کرائی کہ گرفتار رکن اسمبلی کا پروڈکشن آرڈر جاری کیا جائے گا،کوشش کریں گے کہ کل کلیم اللہ ہمارے درمیان ہوں، اسپیکر کی عدم موجودگی کی وجہ سے معاملہ تاخیر کا شکار ہوا۔
اپوزیشن رکن عدنان ڈوگر نے ایوان میں واپسی پر کہا کہ ہمیں یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ اسپیکر ملک محمد احمد خان کل ایوان میں آئیں گے تو کلیم اللہ کا پروڈکشن آرڈر جاری کرکے انہیں اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ ’ہمیں کسی پر کوئی اعتبار نہیں، آپ سیاسی لوگ ہیں اس لیے آپ کے کہنے پر احتجاج ختم کیا۔‘
مزید پڑھیں: مریم نواز کیخلاف احتجاج پر اپوزیشن کے 26 ارکان 15 اجلاس کے لیے معطل
اپوزیشن رکن شعیب امیر نے اسپیکر کی غیر موجودگی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر ہوتے تو آج احتجاج کی ضرورت ہی نہ پڑتی، ہم ساتھ ہمیشہ اسپیکر نے معاونت کی ہے، پی ٹی آئی کے ایم پی اے فرخ مون نے حکومتی اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج آپ بینچوں کے اس طرف ہیں، کل ہم ہوں گے۔
حکومتی وفد کی یقین دہانی کے بعد اپوزیشن کا دھرنا ختم ہو گیا، تاہم اپوزیشن اراکین کا کہنا تھا کہ وہ کل اسپیکر کی موجودگی میں کلیم اللہ خان کی ایوان میں حاضری کے منتظر رہیں گے۔














