محکمہ موسمیات نے ملک کے بیشتر علاقوں میں آج سے 12 جون تک شدید گرمی اور ہیٹ ویو کی لہر کے خدشے کا انتباہ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تازہ موسمی پیش گوئی کے مطابق بالائی فضاؤں میں بلند دباؤ کے نظام کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت معمول سے 4 سے 7 ڈگری سینٹی گریڈ زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہیٹ ویو اور گلیشیائی جھیلیں پھٹنے کا خطرہ، آئندہ دنوں میں موسم سے متعلق الرٹ جاری کردیا گیا
محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ، بلوچستان، پنجاب، خیبر پختونخوا، اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے متعدد علاقوں میں گرمی کی شدت میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ ماہرین کے مطابق 8 سے 11 جون کے دوران ہیٹ ویو اپنے عروج پر پہنچ سکتی ہے جبکہ بعض علاقوں میں رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہنے کا امکان ہے۔
Pakistan Met Office warned on Saturday that heatwave conditions are likely to develop over most parts of the country from next week. https://t.co/wFUtEa9ql9
— Arab News Pakistan (@arabnewspk) June 7, 2026
کراچی میں درجہ حرارت 40 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں پارہ 48 سے 51 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ جنوبی پنجاب کے کئی شہروں میں بھی درجہ حرارت 44 سے 48 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔
پنجاب کے وسطی اور بالائی علاقوں، بشمول راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات اور دیگر شہروں میں درجہ حرارت 41 سے 44 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کے میدانی علاقوں پشاور، مردان، بنوں، لکی مروت، کرک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں درجہ حرارت 41 سے 46 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
خیبرپختونخوا میں گرمی کی لہر، الرٹ جاری
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کے باعث ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور دیگر طبی مسائل کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صبح 10 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی استعمال کریں اور بچوں، بزرگوں اور بیمار افراد کا خصوصی خیال رکھیں۔
دوسری جانب (این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ شمالی علاقوں میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھل سکتے ہیں، جس سے بعض علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے اور اچانک سیلابی صورتحال کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔














