امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ ہائی لیول مذاکرات کے دوران کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔ یہ بات چیت پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ہوئی، جہاں دونوں ممالک کے نمائندوں نے 21 گھنٹے تک طویل مذاکرات کیے۔
مگر واضح رہے کہ مذاکرات شروع ہونے سے پہلے مکمل جنگ بندی کی امید اور مثبت افواہوں نے سرمایہ کاروں میں پرامیدی پیدا کی تھی، جس کی وجہ سے یہ صورتحال بٹ کوائن پر بھی اثر انداز ہوئی، اور نتیجے میں بٹ کوائن کی قیمت میں اضافہ ہوا۔
مزید پڑھیں: کرپٹو کرائم: پرانے طریقوں سے 700 ملین ڈالر کیسے چرائے گئے؟
یاد رہے کہ 8 اپریل 2026 کو دونوں ممالک کے درمیان سیز فائر کے اعلان کے فوراً بعد بٹ کوائن کی قیمت میں قریباً 5 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
بٹ کوائن کی قیمت 68 ہزار سے 69 ہزار ڈالر کے قریب تھی، جو بڑھ کر 72 ہزار 841 ڈالر تک پہنچ گئی، جو مارچ کے وسط کے بعد کی بلند ترین سطح تھی۔
اسی طرح ایتھریم بھی اسی رجحان پر چلتا ہوا 6 فیصد سے زیادہ بڑھا اور 2200 ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔
صرف یہی نہیں، اس دوران میں وسیع کرپٹو مارکیٹ کیپٹلائزیشن بھی 2.4 ٹریلین ڈالر سے اوپر چلی گئی۔
اس تمام صورتحال کے بعد مذاکرات کے آغاز پر، یعنی 11 اپریل کو بٹ کوائن کی قیمت 72 ہزار سے 73 ہزار ڈالر کے درمیان مستحکم رہی۔
براڈر کرپٹو مارکیٹ بھی زیادہ تر فلیٹ رہی، کیونکہ سرمایہ کار مثبت نتیجے کی امید میں احتیاط کا مظاہرہ کر رہے تھے۔
تاہم جیسے ہی 12 اپریل کو یہ خبریں آئیں کہ مذاکرات بغیر کسی حتمی معاہدے کے ختم ہو گئے ہیں اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہاکہ ایران نے شرائط قبول نہیں کیں، تو مارکیٹ میں رسک آف کا ماحول بن گیا۔
جس کے نتیجے میں ناکامی کے فوراً بعد بٹ کوائن میں 2 سے 3 فیصد تک کی گراؤٹ دیکھی گئی، اور قیمت 73 ہزار ڈالر سے نیچے آ کر 70 ہزار ڈالر ہوگئی۔
13 اپریل کو بٹ کوائن قریباً 70 ہزار 741 سے 71 ہزار 929 ڈالر کے درمیان ٹریڈ کر رہا تھا، جو پچھلے دن سے ایک سے 3.2 فیصد نیچے تھا۔
اسی طرح ایتھریم بھی 3.6 فیصد گر کر 2 ہزار 186 سے 2200 ڈالر کے قریب پہنچ گیا۔ دیگر بڑی کرنسیاں جیسے ایکس آر پی اور سولانا بھی ایک سے 3 فیصد تک نیچے آئیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جیو پولیٹیکل تناؤ، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش کے خطرے نے رسک آن اثاثوں، جیسے کرپٹو کو متاثر کیا۔ سیز فائر کی عارضی امید نے کرپٹو کو ریلیف دیا، لیکن مذاکرات کی ناکامی نے اس کی قیمت کو دوبارہ نیچے دھکیل دیا۔
بٹ کوائن اب صرف ایک ڈیجیٹل اثاثہ نہیں رہا، طاہر نقاش
اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کرپٹو کرنسی کے ماہر طاہر نقاش نے کہاکہ موجودہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بٹ کوائن اب صرف ایک ڈیجیٹل اثاثہ نہیں رہا بلکہ ایک ایسا معاشی حالات سے متاثر ہونے والا اثاثہ بن چکا ہے جو عالمی سیاسی حالات سے براہ راست متاثر ہوتا ہے۔
ان کے خیال میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے خطرے سے متعلق رجحان کو فوری طور پر تبدیل کیا۔
وہ کہتے ہیں کہ اگر مذاکرات کا نیا دور شروع ہوتا ہے اور اس میں مثبت پیشرفت کے اشارے ملتے ہیں تو مارکیٹ اسے کشیدگی میں کمی کی علامت کے طور پر لے گی، جس سے بٹ کوائن میں دوبارہ تیزی آ سکتی ہے اور قیمت 75 ہزار ڈالر یا اس سے اوپر کی سطح کو چھو سکتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ اگر بات چیت دوبارہ تعطل کا شکار ہوئی یا کشیدگی بڑھی تو یہ صورتحال مارکیٹ میں غیر یقینی پیدا کرے گی، جس سے بٹ کوائن پر دباؤ آئے گا اور قیمت دوبارہ 70 ہزار ڈالر یا اس سے نیچے جا سکتی ہے۔
کرپٹو مارکیٹ اب روایتی مالیاتی منڈیوں سے الگ نہیں رہی، ارسلان خان
کرپٹو کرنسیوں کے حوالے سے گہری نظر رکھنے والے ارسلان خان کا اس بارے میں کہنا تھا کہ ایتھریم اور دیگر کرپٹو کرنسیاں اس وقت واضح طور پر خطرہ لینے اور خطرہ کم کرنے کے رجحانات کے زیر اثر ہیں، جہاں سرمایہ کار ہر بڑی جیوپولیٹیکل خبر پر فوری ردعمل دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق حالیہ حالات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ کرپٹو مارکیٹ اب روایتی مالیاتی منڈیوں سے الگ نہیں رہی بلکہ عالمی سیاسی پیش رفت، تیل کی قیمتوں اور ڈالر کی مضبوطی جیسے عوامل سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
ارسلان خان کے مطابق نئے مذاکراتی دور کا اثر مکمل طور پر اس بات پر منحصر ہوگا کہ یہ بات چیت کس سمت میں جاتی ہے اور اس میں کتنی سنجیدگی اور تسلسل پایا جاتا ہے۔ اگر مذاکرات مثبت انداز میں آگے بڑھتے ہیں، بیانات میں نرمی آتی ہے اور کسی ممکنہ معاہدے کے آثار ظاہر ہوتے ہیں تو اس سے عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال کم ہوگی، جس کے نتیجے میں مالیاتی بہاؤ بہتر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ایسی صورتحال میں بڑے سرمایہ کار دوبارہ خطرہ مول لینے والے اثاثوں، خاص طور پر بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی طرف راغب ہوں گے، جس سے مارکیٹ میں عارضی لیکن مضبوط تیزی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔
تاہم وہ خبردار کرتے ہیں کہ اگر مذاکرات کے دوران سخت بیانات سامنے آتے ہیں، نئی پابندیوں کا خدشہ پیدا ہوتا ہے یا کسی اہم جیوپولیٹیکل خطرے خاص طور پر آبنائے ہرمز جیسے حساس تجارتی راستے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر مارکیٹ پر ظاہر ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ ایسی صورتحال میں سرمایہ کار محتاط حکمت عملی اپناتے ہوئے اپنے سرمائے کو محفوظ اثاثوں میں منتقل کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بٹ کوائن سمیت دیگر کرپٹو اثاثوں میں اتار چڑھاؤ بڑھ جائے گا اور قلیل مدت میں قیمتوں پر دباؤ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ کچھ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مستقبل میں کوئی بریک تھرو ہوا تو بٹ کوائن 75 ہزار سے 80 ہزار ڈالر کی طرف جا سکتا ہے۔ دوسری طرف اگر تناؤ بڑھا تو 67 ہزار سے 68 ہزار ڈالر کی سپورٹ ٹیسٹ ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ خاندان کے کرپٹو اثاثے کتنے ہیں؟
ٹرمپ فیملی کا مرکزی کرپٹو کاروبار ورلڈ لیبرٹی فنانشل ہے، جس میں خاندان کے پاس قریباً 22.5 بلین ٹوکنز موجود ہیں۔ ان ٹوکنز کی کاغذی مالیت قریباً 3.8 بلین ڈالر بنتی ہے، اگرچہ یہ ٹوکنز فی الحال لاک ہیں اور فوری طور پر فروخت کے لیے دستیاب نہیں۔
مزید پڑھیں: کرپٹو کرنسی کی اجازت: عام کرنسی کو ڈیجیٹل کرنسی میں کیسے منتقل کیا جاسکے گا؟
ٹرمپ خاندان نے اس منصوبے اور دیگر کرپٹو منصوبوں سے اندازاً 1.2 سے 1.4 بلین ڈالر تک نقد منافع حاصل کیا ہے، جس کے بعد ان کی مجموعی دولت قریباً 6.8 بلین ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔
اس وقت کرپٹو اثاثے ان کی کل دولت کا قریباً 20 فیصد حصہ بن چکے ہیں، جو اس شعبے میں ان کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو ظاہر کرتا ہے۔












