وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری افسران کے کنڈکٹ اور سروس رولز میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت سرکاری اہلکاروں کے لیے ضابطہ اخلاق کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیر اعظم کی منظوری کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔
نئے قواعد کے مطابق سرکاری افسران کے لیے اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کو مزید سخت بنایا گیا ہے، جبکہ تحائف اور غیر ملکی ایوارڈز لینے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
یہ پابندی افسران کے اہل خانہ پر بھی لاگو ہو گی، جو کسی کمپنی، تنظیم، غیر ملکی حکومت یا سفارتکار سے تحفہ وصول نہیں کر سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کردیا
وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق اگر کوئی سرکاری افسر سرکاری وفد کے ساتھ بیرون ملک یا کسی تقریب میں شرکت کے دوران تحفہ حاصل کرتا ہے تو وہ لازمی طور پر توشہ خانہ میں جمع کروایا جائے گا۔
اسی طرح کسی نجی میزبان سے پاکستان یا بیرون ملک میزبانی قبول کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
نئے ضوابط کے تحت سرکاری افسران کو ذاتی تشہیر کے لیے کسی عوامی تقریب یا اجتماع میں شرکت سے روک دیا گیا ہے، جبکہ اپنے سے اعلیٰ عہدے پر فائز افسران کو تحائف یا قیمتی اشیا دینے پر بھی پابندی ہو گی۔
اس کے علاوہ سرکاری افسران کو اپنے معیارِ زندگی کو اپنی آمدن کے مطابق رکھنے کا پابند بنایا گیا ہے اور سرکاری فرائض کے دوران کسی فرد سے ادھار لینے یا دینے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں: وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی 142 اصلاحات پر تکنیکی معاونت مسترد کردی
دستاویزات کے تحفظ کے حوالے سے بھی سختی کی گئی ہے، اور کسی بھی سرکاری افسر کو اپنے محکمے کے سیکریٹری کی اجازت کے بغیر سرکاری دستاویز غیر متعلقہ افراد سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
اسی طرح کتاب یا آرٹیکل شائع کرنے سے قبل متعلقہ محکمہ کے سربراہ سے منظوری لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
تاہم قواعد میں یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ سرکاری افسران محکمانہ اجازت سے خیراتی کاموں یا تدریسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے، لیکن اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا 25 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کروانا ہو گا۔
غیر معمولی چھٹی کے دوران افسران کو بینک، کمپنی، ٹرسٹ یا تعلیمی اداروں میں ملازمت کی اجازت بھی دی گئی ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد سرکاری نظام میں شفافیت، احتساب اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانا ہے۔














