سرکاری اہلکاروں کے لیے نیا ضابطہ، شفافیت بڑھانے کا فیصلہ

جمعہ 17 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم شہباز شریف نے سرکاری افسران کے کنڈکٹ اور سروس رولز میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت سرکاری اہلکاروں کے لیے ضابطہ اخلاق کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وزیر اعظم کی منظوری کے بعد باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

نئے قواعد کے مطابق سرکاری افسران کے لیے اپنے اثاثہ جات ظاہر کرنے کے نظام کو مزید سخت بنایا گیا ہے، جبکہ تحائف اور غیر ملکی ایوارڈز لینے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

یہ پابندی افسران کے اہل خانہ پر بھی لاگو ہو گی، جو کسی کمپنی، تنظیم، غیر ملکی حکومت یا سفارتکار سے تحفہ وصول نہیں کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے منی لانڈرنگ کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کردیا

وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق اگر کوئی سرکاری افسر سرکاری وفد کے ساتھ بیرون ملک یا کسی تقریب میں شرکت کے دوران تحفہ حاصل کرتا ہے تو وہ لازمی طور پر توشہ خانہ میں جمع کروایا جائے گا۔

اسی طرح کسی نجی میزبان سے پاکستان یا بیرون ملک میزبانی قبول کرنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

نئے ضوابط کے تحت سرکاری افسران کو ذاتی تشہیر کے لیے کسی عوامی تقریب یا اجتماع میں شرکت سے روک دیا گیا ہے، جبکہ اپنے سے اعلیٰ عہدے پر فائز افسران کو تحائف یا قیمتی اشیا دینے پر بھی پابندی ہو گی۔

اس کے علاوہ سرکاری افسران کو اپنے معیارِ زندگی کو اپنی آمدن کے مطابق رکھنے کا پابند بنایا گیا ہے اور سرکاری فرائض کے دوران کسی فرد سے ادھار لینے یا دینے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی 142 اصلاحات پر تکنیکی معاونت مسترد کردی

دستاویزات کے تحفظ کے حوالے سے بھی سختی کی گئی ہے، اور کسی بھی سرکاری افسر کو اپنے محکمے کے سیکریٹری کی اجازت کے بغیر سرکاری دستاویز غیر متعلقہ افراد سے شیئر کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

اسی طرح کتاب یا آرٹیکل شائع کرنے سے قبل متعلقہ محکمہ کے سربراہ سے منظوری لینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

تاہم قواعد میں یہ سہولت بھی دی گئی ہے کہ سرکاری افسران محکمانہ اجازت سے خیراتی کاموں یا تدریسی سرگرمیوں میں حصہ لے سکیں گے، لیکن اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا 25 فیصد سرکاری خزانے میں جمع کروانا ہو گا۔

غیر معمولی چھٹی کے دوران افسران کو بینک، کمپنی، ٹرسٹ یا تعلیمی اداروں میں ملازمت کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا مقصد سرکاری نظام میں شفافیت، احتساب اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فرانس: کروز شپ پر پیٹ کی بیماری پھیلنے کا خدشہ، 1700 مسافر قرنطینہ

کوئٹہ: بلاول بھٹو زرداری نے بلوچستان کے لیے ایئر ایمبولینس سمیت 11 بڑے صحت منصوبوں کا افتتاح کردیا

فاطمہ ثنا کی کیپٹن اننگز: پاکستان کا تیسرے ٹی 20 میں زمبابوے کو 224 رنز کا ہدف، ایک اور کلین سوئپ کی تیاری

جاسوسی کا خوف: صدر ٹرمپ کے عملے نے چین سے واپسی پر تمام سرکاری تحائف اور فون وہیں پھینک دیے

چیک ریپبلک: تیرہویں صدی کی مقدسہ کی چوری شدہ کھوپڑی برآمد، ملزم گرفتار

ویڈیو

کوکین کوئین کے خلاف اگر منشیات اور اسلحہ رکھنے کا جرم ثابت ہوجائے تو مجموعی طور پر کتنی سزا ہوسکتی ہے؟

امریکا چین مذاکرات میں تجارت پر بات، اور روبیو کے نام سے جڑا دلچسپ معاملہ، آبنائے ہرمز بھی زیرِ بحث

پاکستان کا پہلا پانڈا بانڈ اجرا، وزیر خزانہ نے چین کے ساتھ مالی تعاون کو تاریخی سنگ میل قرار دے دیا

کالم / تجزیہ

جب محافظ ہی زہر فروشوں کے نگہبان بن جائیں

کبھی آپ نے ‘ناکامی’ کی تقریب منائی ہے؟

زخمی کھلاڑی کی شاندار اننگز