انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے اینٹی کرپشن یونٹ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے کینیڈا کی کرکٹ ٹیم کے خلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کر دی ہیں جن میں حالیہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران کھیلے گئے ایک مخصوص میچ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی 20 ورلڈ کپ جیتنے پر بھارتی کرکٹ بورڈ نے ٹیم کے لیے ریکارڈ انعامی رقم کا اعلان کردیا
رپورٹس کے مطابق اینٹی کرپشن یونٹ اس وقت 2 الگ الگ تحقیقات کر رہا ہے جن میں بین الاقوامی اور ڈومیسٹک کرکٹ ایونٹس میں ممکنہ بدعنوانی کے معاملات شامل ہیں۔
دستاویزی فلم کے بعد معاملہ منظر عام پر آیا
یہ الزامات سب سے پہلے ایک کینیڈین تحقیقاتی ڈاکیومنٹری ’کرپشن، کرائم اینڈ کرکٹ‘ کے ذریعے سامنے آئے جس میں کرکٹ کینیڈا کے انتظامی ڈھانچے اور اخلاقی معیار پر سنگین سوالات اٹھائے گئے۔
ایک اہم الزام کینیڈا اور نیوزی لینڈ کے درمیان ورلڈ کپ میچ سے متعلق ہے۔ ڈاکیومنٹری میں نیوزی لینڈ کی اننگز کے 5ویں اوور پر خاص توجہ دی گئی جو کینیڈا کے کپتان دلپریت باجوا نے کرایا تھا۔ باجوا کو ٹورنامنٹ سے صرف 3 ہفتے قبل کپتان مقرر کیا گیا تھا اور اس اوور میں انہوں نے ایک نو بال اور ایک وائیڈ سمیت 15 رنز دیے۔
اس سے قبل کینیڈا نے فاسٹ بولرز جسکرن سنگھ اور ڈیلن ہیلیگر کے ساتھ آغاز کیا تھا جو مہنگے ثابت ہوئے۔ تیسرے اوور میں سعد بن ظفر کو اسپن بولنگ کے لیے لایا گیا جنہوں نے وکٹ میڈن اوور کیا، جبکہ اگلے اوور میں ہیلیگر نے ایک اور وکٹ حاصل کی، جس کے بعد باجوا کا مہنگا اوور آیا۔

لیک آڈیو اور ٹیم سلیکشن پر دباؤ
تحقیقات کا ایک اور پہلو ایک لیک ہونے والی فون کال سے متعلق ہے جس میں کینیڈا کے سابق ہیڈ کوچ خرم چوہان شامل ہیں۔ اس آڈیو میں انہوں نے الزام لگایا کہ کرکٹ کینیڈا کے اعلیٰ حکام نے ان پر مخصوص کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
The ICC's anti-corruption unit is investigating allegations of corruption involving Cricket Canada, one of which focuses on a Canada game from the recent men's T20 World Cup pic.twitter.com/XcwN4hvaM9
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) April 17, 2026
یہ آڈیو گزشتہ سال سامنے آئی تھی اور تب سے زیرِ تفتیش ہے جبکہ اس میں میچ فکسنگ کی کوششوں سے متعلق غیر مصدقہ باتیں بھی شامل ہیں۔
ایک اور سابق ہیڈ کوچ پبودو دسانائیکے نے بھی دعویٰ کیا کہ انہیں سنہ 2024 کے ٹی 20 ورلڈ کپ سے قبل ٹیم سلیکشن پر دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق مخصوص کھلاڑیوں کو شامل نہ کرنے پر انہیں معاہدہ ختم کرنے کی دھمکیاں دی گئیں جس پر وہ اب کرکٹ کینیڈا کے خلاف قانونی کارروائی کر رہے ہیں۔
انتظامی بحران اور مالی مسائل
گزشتہ ایک سال کے دوران کرکٹ کینیڈا شدید انتظامی عدم استحکام کا شکار رہا ہے۔ سابق چیف ایگزیکٹو سلمان خان کی تقرری بھی تنازع کا باعث بنی، کیونکہ ان کے ماضی کے مجرمانہ مقدمات ظاہر نہیں کیے گئے تھے۔ بعد ازاں ان پر کیلگری پولیس نے چوری اور فراڈ کے الزامات عائد کیے، جنہیں انہوں نے مسترد کر دیا ہے۔
حال ہی میں اروِندر کھوسہ کو نیا بورڈ صدر منتخب کیا گیا ہے جنہوں نے امجد باجوا کی جگہ لی ہے۔
مزید پڑھیے: ٹی20 ورلڈ کپ: آئی سی سی کی ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کیخلاف امتیازی سلوک کی تردید
ڈاکیومنٹری میں کھلاڑیوں کو ادائیگیوں میں تاخیر کا بھی انکشاف کیا گیا جس میں سنہ 2024 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کی انعامی رقم کی عدم ادائیگی بھی شامل ہے۔
🚨 ICC investigates Canada T20WC Match 🚨
ICC's Anti-Corruption Unit investigates Canada's T20WC match against New Zealand at Chepauk.
Dilpreet Bajwa began the 5th over with No-Ball and Wide, he conceded 15 Runs when NZ were 35/2. [ESPNCricinfo]
📷 ICC pic.twitter.com/ZU6k4MDrjE
— CricketGully (@thecricketgully) April 17, 2026
رپورٹس کے مطابق جولائی 2025 سے قومی کھلاڑیوں کے پاس باقاعدہ معاہدے موجود نہیں تھے اور انہیں صرف قلیل مدتی معاہدوں پر رکھا گیا۔
آئی سی سی کا مؤقف
آئی سی سی کے انٹیگریٹی یونٹ کے عبوری جنرل منیجر اینڈریو ایفگریو نے ایک بیان میں کہا کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہیں تاہم ضابطہ کار کے تحت مخصوص الزامات پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
Big breaking 🚨
A Canadian documentary named " Corruption, Crime and Cricket has alleged that a specific over from Canada captain Dilpreet Bajwa, where he began with a no-ball, followed by a wide, and conceded 15 runs.
The game in question was between Canada and New Zealand… pic.twitter.com/Hi9kulf2fV— Troll cricket unlimitedd (@TUnlimitedd) April 17, 2026
انہوں نے مزید بتایا کہ اینٹی کرپشن یونٹ 3 بنیادی شعبوں انٹیلیجنس، روک تھام اور تعلیم اور تحقیقات پر بیک وقت کام کرتا ہے، خاص طور پر جب کھیل کی شفافیت کو خطرہ لاحق ہو۔
یہ بھی پڑھیے: آئی سی سی کی نئی رینکنگ جاری، صائم ایوب پھر نمبر ون آل راؤنڈر بن گئے
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ڈاکیومنٹری میں جن منظم جرائم سے تعلق کے الزامات کا ذکر کیا گیا ہے وہ اینٹی کرپشن یونٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے اور ایسے معاملات مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔














