امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلز پارٹی کراچی میں حق دو کراچی کے بینرز لگانے اور چھاپنے پر دکانیں سیل کرنے کی دھمکیاں دے رہی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں انہوں نے کہاکہ اگر آج اس نعرے پر پابندی لگائی جا رہی ہے تو کیا کل شہریوں کو یہ نعرہ لگانے پر گرفتار بھی کیا جائے گا۔ یہ رویہ فسطائیت اور آمرانہ طرزِ عمل کے مترادف ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ 18 سال گزرنے کے باوجود کراچی کے شہریوں کو پینے کا پانی فراہم نہیں کیا جا سکا اور نہ ہی ٹرانسپورٹ اور سڑکوں کے مسائل حل ہو سکے ہیں۔
ان کے مطابق جب عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو انہیں دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے مزید کہاکہ سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کرنے والے سیاسی کارکنوں پر دہشتگردی کی دفعات عائد کی جاتی ہیں، جو قابلِ مذمت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ کی بڑی معیشت اور پاکستان کی نصف اقتصادی سرگرمیاں کراچی پر منحصر ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہاکہ حق دو کراچی کا نعرہ کسی ایک قوم یا جماعت کا نہیں بلکہ شہر کے ساڑھے تین کروڑ عوام کی مشترکہ آواز ہے، اور یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کراچی کو اس کے تمام حقوق نہیں مل جاتے۔














