سندھی زبان کی ایک کہاوت ہے کہ پاڑو ابو اماں آہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمسائے اماں ابا جیسے ہوتے ہیں۔ اور ہمارے مذہب اسلام میں والدین اور ہمسائے کے حقوق کتنے زیادہ ہیں اس سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں۔ ایران ایک تو ہمارا ہمسایہ ملک ہے تو دوسرے پاکستان اور ایران اسلام کے مضبوط دھاگے میں پروئے ہوئے دو موتی ہیں اس لیے ہم پاکستانی لوگ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والی جنگ میں دلی طور پر ایران کے ساتھ کھڑے ہیں۔
مگر ملکوں اور حکومتوں کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔ ملک یا حکومت جذباتیت سے نہ چل سکتے ہیں اور نہ ہی برقرار رہ سکتے ہیں۔ اس حقیقت کے باوجود پاکستان کی موجودہ حکومت، عسکری قیادت اور دیگر حلقوں نے اس جنگ کے خاتمے، فریقین کے مابین صلح کروانے کے لیے انھیں مذاکرات کی میز پر لانے میں جو کامیاب کرادر ادا کیا ہے۔
اس وقت پوری دنیا پاکستان کے اس کردار کو نہ صرف تسلیم کرتی ہے بلکہ اسے ستائش کی نظر سے بھی دیکھ رہی ہے۔ اس وقت کی سب سے اچھی خبر یہ ہے کہ برادر ملک ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی ہے۔ اس سے دنیا بھر کے امن پسند انسانوں نے سکھ کی سانس لی ہے۔ اور دوسری اچھی خبر ہم پاکستانیوں کے لیے یہ آئی ہے کہ ہرمز کھلنے کی خبر ملتے ہی ملک میں تیل کی قیمتیں کم کرنے کا اعلان ہوگیا ہے۔
اس وقت جب پوری دنیا خوف کے مارے ایران سے فاصلہ رکھے ہوئے ہے عین اس وقت ہمارے آرمی چیف جنگ سے متاثرہ ہمارے پڑوسی ملک میں دورے پر ہہنچے۔
یہ بھی پڑھیں: وہیل چیئر پر دنیا کی سیاحت کرنے والی مہم جُو خواتین
اس کے ساتھ ہمارے وزیراعظم شہباز شریف پاکستان کے دوسرے برادر اسلامی ملک سعودی عرب گئے ہیں جس کے ساتھ ہمارے ملک کا دفاعی معاہدہ ہے۔ یوں پاکستان کی موجودہ قعادت عالمی منظر نامے میں غیر معمولی طور پر متحرک دکھائی دیتی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس تحرک اور مثبت سرگرمی کے ہمارے ملک اور عوام کو کثیر الجہتی فوائد حاصل ہورہے ہیں اور مزید ہوں گے۔
پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن کا بھی یہ تقاضہ ہے کہ وہ مغرب اور مشرق وسطیٰ کے درمیان پل کا کردار ادا کر ہے کیوں کہ اس سے اس کی اپنی پوزیشن اقوامِ عالم میں نمایاں ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان سفارتی، معاشی اور دیگر محاذوں پر مضبوط ہوگا، انشاء اللہ۔ ہماری اس بات کا ثبوت یہ ہے کہ ابھی تک ہمارے ملک نے جنگ ٹالنے کے لیے ثالثی کا جو کردار ادا کیا ہے اس کی گونج اقوامِ عالم میں’شکریہ پاکستان‘ کے نعروں سے سنائی دے رہی ہے۔
مزید پڑھیے: کُھرا اٹھانے والے دیہاتی ’ڈیٹیکٹوز‘ نایاب ہوگئے
پوری دنیا، خاص طور پر اپنے خطے کو جنگ کی تباہی سے بچانے کے لیے پاکستان نے کامیاب سفارتکار کا کردار ادا کرکےعالمی منظر پر اپنے پُر امن ملک ہونے کا تاثر مضبوط کیا ہے۔
اس طرح کوئی کچھ بھی کہے مگر اس جنگ بندی کا کریڈٹ پاکستان کو جاتا ہے۔ اس حوالے سے ہمارے پڑوسی دشمن ملک کے میڈیائی مافیا کے سینے پر جو سانپ لوٹ رہے ہیں، وہ ہماری بات کی تصدیق کے لیے کافی ہیں۔
مرے کو مارے شاہ مدار کے مصداق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل ایک بار پھر ہمارے آرمی چیف فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی تعریف کی ہے اور عندیہ ظاہر کیا ہے کہ جنگ بندی کےمجوزہ حتمی معاہدے یا اسلام آباد ڈیکلریشن پر دستخط کے موقع پر، ہوسکتا ہے کہ وہ خود بھی پاکستان پہنچ جائیں۔
سہ فریقی مذاکرات کے لیے کامیاب سفارت کاری کے بعد پاکستان حکومت کو چاہیے کہ وہ ایران کے ساتھ تجارت کے لیے اپنے دروازے کھول دے اور اس کے لیے پہلا کرنے کا کام یہ ہونا چاہیے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے۔ اس وقت ہمارے حکمراں امریکا کی گڈ بک میں ہیں، اس لیے وہ یہ مطالبہ منوا سکتے ہیں۔ اگر ایسا ہوگیا تو جہاں پاکستان کی توانائی یعنی گیس، بجلی کی ضروریات پوری ہوں گی، وہاں عوام کو مہنگائی سے ریلیف بھی ملے گا۔ کیوں کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے ملک میں اشیائے صرف کے نرخوں میں بے مہار اضافہ ہوجاتا ہے۔ جیسے اس جنگی صورتحال میں 300 روپے سے کم فی لیٹر والا پیٹرول ساڑھے 400 روپے فی لیٹر سے بھی کراس کرگیا تھا۔
اگر پاکستان اپنا یہی مدبرانہ ثالث والا کردار برقرار رکھتے ہوئے، امریکا اور ایران کے مابین جنگ اور کشیدگی کی صورتحال ختم کروا دیتا ہے تو اس سے دنیا بھر میں ہماری نیک نامی ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے پر امن ملک ہونے کا تاثر مضبوط ہوگا اور ہمارا ملک جو مسلم دنیا کی واحد ایٹمی قوت ہونے کا فخر رکھتا ہے وہ پچاس سے زائد مسلمان ملکوں کا قائد بن جائے گا۔
ہمارے ملک میں استحکام سے دنیا کا ہم پر اعتماد بڑھے گا، جس سے ہمیں نئے معاشی اور تجارتی تعلقات قائم کرنے معاہدوں تک پہنچنے میں اسانی ہوگی، ہمارے برآمد اور درآمد کے درمیان فرق کم ہوگا۔ اس سے بیشتر شعبوں پر دباؤ کم ہوگا۔
مزید پڑھیں: ہمارے گاؤں دیہات کی عیدیں
اس کے علاوہ پاکستان کی عالمی مارکیٹ میں رسائی مزید آسان ہوجائےگی۔ جس کا فائدہ بہرحال گھوم پھر کر پاکستانی شہریوں کو ہوگا۔پاکستان کی کوششوں سے اس کشیدگی کے خاتمے کے نتیجے میں ایران کے ساتھ ساتھ عرب ملکوں کی معیشت پر بھی دباؤ کم ہوگا جہاں اس وقت نصف کروڑ سے زیادہ پاکبان محنت مزدوری کرکے، ہمیں یعنی ہمارے ملک کو قیمتی زر مبادلہ بھیج رہے ہیں۔ پاکستان کی کامیاب ثالثی ایک بڑی سفارتی کامیابی ہو گی جس سےہمارے ملک کے تعلقات ایک جانب امریکا سے مزید مضبوط ہوں گے اور دوسری جانب ہمارا ہمسایہ ایران موجودہ جنگی حالات سے باہر نک آئے گا۔ ہمیں یہ بھی بڑا معاشی اور تجارتی فائدہ ہوگا کہ ہمارے تجارتی بحری جہاز آبنائے ہرمز کے ذریعے سامان، خاص طور پر تیل جو ہماری ضرورت ہے، اس کی ترسیل کسی رکاوٹ کے ہوسکے گی۔
ان سب باتوں کے پیش نظر یہ کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ موجودہ حالات میں قدرت نے پاکستان کو اقوام عالم میں عزت کمانے اور اپنے عوام کے حالات بہتر بنانےکا جو بہترین موقع فراہم کیا ہے اس قیمتی ترین موقع کو کسی بھی قیمت پر ضائع ہونے نہ دیا جائے۔














