ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ حملے میں خاتون خودکش حملہ آور استعمال ہونے کا انکشاف، سہولتکار افغانستان فرار

ہفتہ 18 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی حمزہ شفقات اور معاون برائے محکمہ داخلہ بلوچستان بابر یوسفزئی نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ 30 نومبر کو ایف سی ہیڈکوارٹرز کوئٹہ پر ہونے والے حملے میں ایک خاتون خودکش بمبار کو استعمال کیا گیا۔

پریس کانفرنس کے مطابق خاتون رحیمہ بی بی، جو دالبندین سے تعلق رکھتی ہیں، نے بیان دیا کہ ان کی شادی اپریل 2025 میں منظور احمد سے ہوئی تھی۔ ان کے مطابق شوہر کبھی کبھار ان کا فون استعمال کرتا تھا۔

یہ بھی پڑھیے: خیبر پختونخوا: بنوں میں تھانے کے باہر خودکش دھماکے میں 5 افراد جاں بحق

رحیمہ بی بی نے بتایا کہ 11 نومبر 2025 کو ان کا شوہر ایک نامعلوم خاتون کو گھر لایا، جبکہ اگلی رات 12 نومبر کو اسے اپنے ساتھ لے گیا۔ بعد ازاں 30 نومبر کو ایف سی ہیڈکوارٹرز پر حملے کے بعد شوہر نے انہیں بتایا کہ حملہ آور وہی خاتون تھی۔

انہوں نے مزید کہا کہ شوہر نے انہیں اپنے بھائی کے ساتھ افغانستان جانے کا کہا، تاہم وہ گرفتار ہو گئیں۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی حمزہ شفقات نے بتایا کہ رحیمہ بی بی اس وقت حکومتی تحویل میں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کوئٹہ: پولیس حراست میں نوجوان کی مبینہ خودکشی، اہلِ خانہ کا قتل کا الزام

اس موقع پر بابر یوسفزئی نے کہا کہ دہشتگرد عناصر خواتین اور بچوں کو استعمال کر رہے ہیں، جبکہ سرحدی علاقوں سے نکل کر شہری آبادی میں رشتوں اور سماجی روابط کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے اور دہشتگرد کارروائیوں کے بعد وہاں جا کر پناہ لیتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp