خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں ایک پولیس تھانے کے باہر ہونے والے ایک مبینہ خودکش دھماکے میں 5 افراد جاں بحق جبکہ 13 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بنوں میں ایک کار سوار خودکش حملہ آور نے بارود سے بھری گاڑی ڈومیل پولیس اسٹیشن سے ٹکرا دی، جس کے نتیجے میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔
یہ بھی پڑھیں:کوہاٹ پولیس کا دہشتگردوں سے مقابلہ، فتنہ الخوارج کے 6 شرپسند مارے گئے
بنوں کے ریسکیو کے ضلعی سربراہ بخت اللہ وزیر نے بتایا کہ دھماکہ اتنا زوردار تھا کہ پورا علاقہ لرز اٹھا۔ اطلاع ملتے ہی امدادی سرگرمیاں شروع کر دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی اور اس سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق دھماکے سے پولیس اسٹیشن کی سکیورٹی پوسٹ تباہ ہو گئی جبکہ عمارت کا بڑا حصہ ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ واقعے کے بعد ریسکیو اہلکاروں نے زخمیوں اور لاشوں کو اسپتال منتقل کر دیا، جبکہ اسپتال حکام نے واقعے میں 5 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کر دی۔ مزید 13 زخمی اسپتال میں زیر علاج ہیں جن میں سے کچھ کی حالت نازک ہے۔
اسپتال حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد شامل ہیں، جن میں میاں، بیوی، بیٹی اور بیٹا شامل ہیں، جبکہ ایک راہگیر بچی بھی جاں بحق ہونے والوں میں شامل ہے۔ زخمیوں میں 6 خواتین بھی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاک فوج کی قندھار میں کارروائی، افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانے، ہتھیار ذخیرہ کرنے کی سرنگ تباہ
خودکش دھماکے کے بعد پولیس اور سکیورٹی اداروں کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے، جبکہ علاقے میں شدید فائرنگ کی بھی اطلاع ہے۔ واقعے کے بعد پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن جاری ہے، جبکہ دھماکے میں استعمال ہونے والے بارودی مواد کی مقدار کا ابھی تعین کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا کا جنوبی ضلع بنوں قبائلی ضلع شمالی وزیرستان کے ساتھ متصل ہے، جو افغانستان کی سرحد کے قریب واقع ہے۔ دہشتگرد اکثر بنوں میں تخریب کاروائیاں کرتے رہتے ہیں۔














