پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز شدید اتار چڑھاؤ اور جذباتی رجحانات سے متاثرہ کاروباری سیشن ریکارڈ کیا گیا۔
جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن بھر اوپر نیچے ہوتا رہا اور بالآخر 1,742.31 پوائنٹس یعنی ایک فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟
کے ایس ای 100 انڈیکس نے کاروبار کے آغاز کے فوراً بعد تیزی سے کمی کا سامنا کیا، جس کی وجہ منفی بیرونی اشارے یا جغرافیائی سیاسی خدشات تھے۔
تاہم یہ کمی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور ادارہ جاتی خریداری کے باعث مارکیٹ تیزی سے سنبھلتے ہوئے مثبت زون میں لوٹ آئی۔
Market Close Update: Negative Today! 👇
🇵🇰 KSE 100 ended negative by -1,742.3 points (-1%) and closed at 172,196.7 with trade volume of 597.9 million shares and value at Rs. 52.97 billion. Today's index low was 169,227 and high was 174,524. pic.twitter.com/7ooc45gKPc— Investify Pakistan (@investifypk) April 20, 2026
بعد ازاں انڈیکس میں بتدریج اضافہ ہوا اور یہ انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح یعنی 174,523.76 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
دوپہر کے قریب ایک بار پھر سرمایہ کاروں کے رجحانات میں تبدیلی آئی اور مارکیٹ میں شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔
جس کے نتیجے میں انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 169,226.56 پوائنٹس تک گر گیا۔
مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟
یہ گراوٹ ان خبروں کے بعد آئی کہ ایرانی وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں آئے گا۔
کاروبار کے آخری اوقات میں مارکیٹ نے جزوی طور پر استحکام حاصل کیا۔
اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,742.31 پوائنٹس یعنی ایک فیصد کمی کے ساتھ 172,196.70 پوائنٹس پر بند ہوا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق فروخت کا دباؤ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث پیدا ہوا، کیونکہ اطلاعات تھیں کہ ایرانی وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے پر آمادہ نہیں۔
گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا تھا، جہاں بہتر جغرافیائی حالات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے باعث بھرپور خریداری دیکھی گئی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس میں 4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 6,748 پوائنٹس بڑھ کر 173,939 پوائنٹس پر بند ہوا۔
مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟
بین الاقوامی سطح پر بھی پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، امریکی ڈالر مضبوط ہوا جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار رہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیجی علاقے میں بحری نقل و حمل محدود ہو گئی، تاہم سرمایہ کار کسی ممکنہ حل کے منتظر رہے۔
ایران جنگ بندی، جو منگل تک جاری رہنی تھی، غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی جب امریکا نے ایک ایرانی کارگو جہاز قبضے میں لے لیا اور تہران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔

ایران نے آبنائے ہرمز کی عملی بندش دوبارہ نافذ کر دی، تاہم ڈیٹا کے مطابق ہفتہ کے روز 20 سے زائد جہاز اس راستے سے گزرے، جو یکم مارچ کے بعد مصروف ترین دن تھا۔
برینٹ کروڈ کی قیمت ایشیائی تجارت کے آغاز میں تقریباً 6 فیصد بڑھ کر 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
امریکی ڈالر میں بھی معمولی اضافہ ہوا جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ایشیا پیسیفک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔













