اسٹاک مارکیٹ ایک مرتبہ پھر مندی کا شکار، انڈیکس میں 1700 سے زائد پوائنٹس کی کمی

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز شدید اتار چڑھاؤ اور جذباتی رجحانات سے متاثرہ کاروباری سیشن ریکارڈ کیا گیا۔

جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس دن بھر اوپر نیچے ہوتا رہا اور بالآخر 1,742.31 پوائنٹس یعنی ایک فیصد کمی کے ساتھ بند ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک مارکیٹ بلند ترین سطح پر پہنچ کر مندی سے دوچار، کیا معیشت خطرے میں ہے؟

کے ایس ای 100 انڈیکس نے کاروبار کے آغاز کے فوراً بعد تیزی سے کمی کا سامنا کیا، جس کی وجہ منفی بیرونی اشارے یا جغرافیائی سیاسی خدشات تھے۔

تاہم یہ کمی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور ادارہ جاتی خریداری کے باعث مارکیٹ تیزی سے سنبھلتے ہوئے مثبت زون میں لوٹ آئی۔

بعد ازاں انڈیکس میں بتدریج اضافہ ہوا اور یہ انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح یعنی 174,523.76 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

دوپہر کے قریب ایک بار پھر سرمایہ کاروں کے رجحانات میں تبدیلی آئی اور مارکیٹ میں شدید فروخت کا دباؤ دیکھا گیا۔

جس کے نتیجے میں انڈیکس انٹرا ڈے کی کم ترین سطح 169,226.56 پوائنٹس تک گر گیا۔

مزید پڑھیں: عالمی معیشت میں بہتری: اسٹاک مارکیٹ اور سونے چاندی میں سرمایہ کاری کب کی جائے؟

یہ گراوٹ ان خبروں کے بعد آئی کہ ایرانی وفد امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے پاکستان نہیں آئے گا۔

کاروبار کے آخری اوقات میں مارکیٹ نے جزوی طور پر استحکام حاصل کیا۔

اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,742.31 پوائنٹس یعنی ایک فیصد کمی کے ساتھ 172,196.70 پوائنٹس پر بند ہوا۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق فروخت کا دباؤ جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث پیدا ہوا، کیونکہ اطلاعات تھیں کہ ایرانی وفد مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے پاکستان آنے پر آمادہ نہیں۔

گزشتہ ہفتے کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار رہا تھا، جہاں بہتر جغرافیائی حالات اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کے باعث بھرپور خریداری دیکھی گئی۔

کے ایس ای 100 انڈیکس میں 4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 6,748 پوائنٹس بڑھ کر 173,939 پوائنٹس پر بند ہوا۔

مزید پڑھیں: سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟

بین الاقوامی سطح پر بھی پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، امریکی ڈالر مضبوط ہوا جبکہ عالمی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار رہیں۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث خلیجی علاقے میں بحری نقل و حمل محدود ہو گئی، تاہم سرمایہ کار کسی ممکنہ حل کے منتظر رہے۔

ایران جنگ بندی، جو منگل تک جاری رہنی تھی، غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئی جب امریکا نے ایک ایرانی کارگو جہاز قبضے میں لے لیا اور تہران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔

ایران نے آبنائے ہرمز کی عملی بندش دوبارہ نافذ کر دی، تاہم ڈیٹا کے مطابق ہفتہ کے روز 20 سے زائد جہاز اس راستے سے گزرے، جو یکم مارچ کے بعد مصروف ترین دن تھا۔

برینٹ کروڈ کی قیمت ایشیائی تجارت کے آغاز میں تقریباً 6 فیصد بڑھ کر 96 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

امریکی ڈالر میں بھی معمولی اضافہ ہوا جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ ایشیا پیسیفک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان دیکھا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

نجی سرمایہ کاری کا منصوبہ واپس نہ لیا گیا تو ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کریں گے، یوئیفا کی فیفا کو وارننگ

سورینج کوئلہ کان حادثہ: بلوچستان حکومت کا جاں بحق مزدوروں کے لواحقین اور زخمیوں کے لیے مالی معاونت کا اعلان

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفیکشن جاری

بے بنیاد الزامات پر پیکا ایکٹ کے تحت کارروائی کا حق محفوظ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا انتباہ

خضدار میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، بارود سے بھری 2 گاڑیاں تباہ، 4 دہشتگرد ہلاک

ویڈیو

ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس ملتوی کیوں ہوئی؟ نظام تبدیل ہونے والا ہے، نئے صوبے ضروری

جب تک سب ساتھ نہیں بیٹھیں گے، ملک ایسے ہی چلتا رہے گا، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی

محدود وسائل میں عائشہ بلوچ نے بھارت کو کیسے چت کیا؟ باکسر کی متاثر کن کہانی

کالم / تجزیہ

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین