برطانیہ بھر میں یاہو میل کے صارفین کو اکاؤنٹ تک رسائی میں مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ایک بڑی سروس کی خرابی نے پیر کی صبح سے صارفین کو متاثر کیا۔
یہ بھی پڑھیں: دہائیوں پہلے دنیا کو چیٹنگ کے ذریعے جوڑنے والی کمپنی اے او ایل کا انٹرنیٹ باب بند ہوگیا
رپورٹس کے مطابق صارفین کی شکایات کی تعداد صبح کے اوقات میں 1,000 سے زائد پہنچ گئی۔
ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے اعداد و شمار کے مطابق صارفین کو صبح 8:47 بجے سے مشکلات کا سامنا شروع ہوا اور یہ مسائل 10:37 بجے تک بڑھ گئے جب 1,232 صارفین نے سسٹم کی خرابی کی شکایت کی۔
لاگ ان کی مشکلات
یاہو میل کی خرابی کے دوران تقریباً 50 صارفین نے لاگ ان کے مسائل کی شکایت کی جنہیں ایپلیکیشن لوڈ کرنے میں ناکامی کا سامنا تھا جو اکاؤنٹ تک رسائی میں کسی خرابی کی نشاندہی کرتا ہے۔ تقریباً 40 صارفین نے ویب سائٹ کی خرابی کی اطلاع دی جبکہ ایک چھوٹے گروہ نے ای میلز نہ ملنے کی شکایت کی۔
کام میں رکاوٹیں
یہ خرابی صارفین کی کام کی روٹین میں خلل ڈال رہی ہے کیونکہ بہت سے افراد دن کے آغاز میں اہم پیغامات تک رسائی حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔ بہت سے صارفین نے ایکس پلیٹ فارم پر اپنے غصے کا اظہار کیا اور بعض نے مکمل اکاؤنٹ لاک آؤٹ ہونے کی شکایت کی۔
سروس کی دوسری خرابی
یہ یاہو میل کے اس ماہ کی دوسری بڑی خرابی ہے جبکہ پچھلے کچھ دنوں میں بھی سروس میں خلل آیا تھا۔
صارفین کے لیے یہ مسلسل خرابیاں تشویش کا باعث بن رہی ہیں خصوصاً وہ جو اس سروس پر روزمرہ کے مواصلات کے لیے انحصار کرتے ہیں۔ یاہو کی جانب سے ابھی تک اس خرابی کے بارے میں کوئی معلومات یا متوقع حل کا وقت فراہم نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی مائیکروسافٹ کا براہ راست مقابلہ کرے گی، ایلون مسک کا سیم آلٹمین پر طنز
یاہو میل کے صارفین ابھی تک اکاؤنٹس تک رسائی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور یہ خرابی ان کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے جو اہم پیغامات کو وقت پر حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔
یاہو میل سروس اب کتنی مقبول؟
واضح رہے کہ یاہو میل سنہ 1997 میں متعارف کرایا گیا تھا اور یہ انٹرنیٹ کی سب سے پہلی مفت ای میل سروسز میں سے ایک تھا۔
ابتدائی طور پر یہ صارفین کے لیے ای میل بھیجنے اور وصول کرنے کا ایک نیا اور آسان طریقہ تھا۔ یاہو میل نے اپنے ابتدائی برسوں میں عالمی سطح پر بے پناہ مقبولیت حاصل کی اور سنہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں اس کے 35 کروڑ سے زائد فعال صارفین تھے۔
مزید پڑھیں: ’وہ دکان اپنی بڑھا گئے‘: فوٹوگرافک کمپنی کوڈک 133 سال بعد کاروبار سمیٹنے پر مجبور
یاہو میل نے نہ صرف ای میل کی دنیا میں انقلاب برپا کیا بلکہ یہ انٹرنیٹ کے ابتدائی دنوں میں ایک بڑی کامیابی تھی۔ تاہم جیسے جیسے وقت گزرا اور دیگر ای میل سروسز جیسے جی میل اور آؤٹ لک سامنے آئیں یاہو میل کا مارکیٹ شیئر کم ہوتا گیا۔
سنہ 2025 تک یاہو میل کے صارفین کی تعداد تقریباً 22 سے 23 کروڑ تک محدود ہو گئی ہے جو کہ اس کے عروج کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ تاہم اب بھی اس کے ذریعے روزانہ
اس کمی کی بڑی وجہ نئی ٹیکنالوجیز اور بہتر سروسز کی طرف صارفین کا رجحان ہے۔ جی میل اور آؤٹ لک نے اپنے جدید فیچرز اور زیادہ محفوظ پلیٹ فارم کی بنا پر زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ اس کے علاوہ یاہو میل کی سروسز میں متواتر فنی مسائل اور سیکیورٹی کی خلاف ورزیاں بھی صارفین کی کمی کی ایک وجہ بنیں۔
یہ بھی پڑھیے: 2 دہائی پرانی ڈیجیٹل تصاویر: خبر لیں کہیں آپ کی تصویری یادیں ضائع نہ ہوجائیں
موجودہ دور میں یاہو میل اب بھی ایک بڑی ای میل سروس ہے لیکن اس کا استعمال زیادہ تر پرانی ای میلز کو محفوظ رکھنے یا ذاتی اکاؤنٹس کے لیے کیا جاتا ہے۔ نوجوان صارفین اور کاروباری افراد اب زیادہ ترجی میل یا خصوصی ڈومین ای میل سروسز پر منتقل ہو چکے ہیں۔
مارکیٹ میں یاہو میل کا شیئر تقریباً 3–4 رہ گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اب اس کو زیادہ تر 45 سال یا زائد عمر کے افراد یعنی بیبی بومرز (پیدائش تقریبا 1946 سے 1964) اور کچھ جین زی افراد (پیدائش سنہ 1997 تا 2012) ہی استعمال کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: وقت کے ساتھ چلنے سے گریز کرنے والی بڑی کمپنیاں جو بہت پیچھے رہ گئیں
اندازوں کے مطابق یاہو میل پر روزانہ تقریباً 26 ارب ای میلز بھیجی جاتی ہیں جبکہ جی میل پر یہ تعداد 100 ارب سے زائد تک پہنچ جاتی ہے۔













