بجلی کے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی قرار، وزارت توانائی اور آئی ایف سی کے درمیان معاہدہ طے

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزارتِ توانائی اور انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن (آئی ایف سی) کے درمیان ٹرانزیکشن ایڈوائزری سروسز کا معاہدہ طے پا گیا، جس کا مقصد بجلی کی تقسیم کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔

سرکاری میڈیا رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کے تحت ملک بھر میں قریباً ایک کروڑ بجلی صارفین کو اسمارٹ میٹرز فراہم کیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں: پاور ڈویژن کی کاوشیں: بجلی کے اسمارٹ میٹرز کی قیمتوں میں نمایاں کمی کردی گئی

حکام کے مطابق اس اقدام سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے جبکہ توانائی کے شعبے کو ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقل کرنے میں مدد ملے گی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم کے وژن کے تحت بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام کی ڈیجیٹلائزیشن کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جو پاور سیکٹر اصلاحات کا حصہ ہے۔ ان اصلاحات کا مقصد کارکردگی بہتر بنانا، بجلی چوری میں کمی لانا اور بلنگ میں شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ بین الاقوامی مسابقتی عمل کے ذریعے اسمارٹ میٹرز کی لاگت میں قریباً 40 فیصد کمی حاصل کی گئی ہے۔ نئے بجلی کنکشنز کے لیے اسمارٹ میٹرز کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے جبکہ روایتی میٹرز کو مرحلہ وار ختم کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق موجودہ تھری فیز، کمرشل اور صنعتی کنکشنز کو بھی مرحلہ وار اسمارٹ میٹرز میں تبدیل کیا جائے گا۔ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کی منظوری کے بعد خراب میٹروں کے مسائل کے حل کے لیے اقدامات کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔

اسمارٹ میٹرز کے اجرا سے ریکوری میں بہتری، لائن لاسز میں کمی اور مجموعی کارکردگی میں اضافہ متوقع ہے۔

مزید پڑھیں: پاور سیکٹر کا گردشی قرض 2300 ارب روپے، اسمارٹ میٹرنگ کی طرف آنا ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف

حکام کے مطابق یہ اقدام پاور سیکٹر کی مالی صورتحال کو مستحکم کرنے اور شفافیت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp