پنجاب میں مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے دوران 2 نوجوانوں کے مبینہ ماورائے عدالت قتل کے معاملے پر مقتولین کی والدہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر جوڈیشل کمیشن کے قیام کی درخواست کر دی ہے۔
خط کے متن کے مطابق 8 اپریل کو علی پور کے تھانہ صدر کے ایس ایچ او نے خاتون کے سامنے ان کے دونوں بیٹوں کو گرفتار کیا۔
والدہ کا دعویٰ ہے کہ گرفتاری کے فوری بعد ہی ان کے بیٹوں کے چہروں پر کپڑا ڈال دیا گیا اور انہیں بغیر کسی مقدمے کے حراست میں لے لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد ہائیکورٹ: قانونی تقاضے پورے کیے بغیر گرفتاری اغوا کے مترادف قرار
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے اپنی وردی کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر ان کے بیٹوں کو گرفتار کیا۔
’جب پولیس سے گرفتاری کی وجہ دریافت کی گئی تو جواب دیا گیا کہ اگلی صبح خان پور، کٹورہ، ضلع رحیم یار خان جا کر معلوم کر لیا جائے۔‘
والدہ کے مطابق اگلی صبح سوشل میڈیا کے ذریعے اطلاع ملی کہ تھانہ صدر خان پور پولیس نے ان کے بیٹوں کو ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاک کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ، ماورائے عدالت حراستی قتل ’فساد فی الارض‘ قرار
خط میں انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے ان کی پوری دنیا اجڑ گئی ہے۔
خط میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ مقتولین کے خلاف راتوں رات من گھڑت اور فرضی مقدمات درج کیے گئے تاکہ واقعے کو پولیس مقابلہ ظاہر کیا جا سکے۔
والدہ کے مطابق ان کے بیٹے پہلے ہی پولیس کی غیر قانونی تحویل میں تھے اور انہیں ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔
مزید پڑھیں: انکاؤنٹر کا خوف، ملزم نے سپریم کورٹ میں گرفتاری دے دی
متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ انہوں نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سمیت دیگر اعلیٰ حکام کو بھی درخواستیں دیں، تاہم کہیں سے شنوائی نہیں ہوئی۔
انہوں نے چیف جسٹس سے استدعا کی ہے کہ واقعے کی شفاف اور میرٹ پر تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا جائے۔














