ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک نیا رجحان سامنے آ رہا ہے جہاں بڑی کمپنیوں کے سربراہان اپنے ہی مصنوعی ذہانت یا اے آئی ورژن تیار کرنے کی طرف بڑھ رہے ہیں تاکہ وہ انتظامی فیصلوں اور ملازمین کی رہنمائی میں زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: مترجم آپ کی ناک پر، اے آئی عینک کا نیا کمال
رپورٹس کے مطابق کمپنی میٹا اپنے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ کا ایک انتہائی حقیقت سے قریب، 3 جہتی اے آئی اوتار تیار کر رہی ہے۔
یہ ڈیجیٹل ورژن ان کے عوامی بیانات، انداز گفتگو، جسمانی حرکات اور کمپنی کی موجودہ حکمت عملی پر تربیت یافتہ ہوگا۔ اس نظام کے ذریعے ملازمین ویڈیو کال کے ذریعے ’اے آئی زکربرگ‘ سے رہنمائی اور فیڈبیک حاصل کر سکیں گے۔
اطلاعات کے مطابق مارک زکربرگ خود اس اے آئی ماڈل کی آزمائش میں بھی شامل ہیں۔ اگرچہ یہ تصور سائنسی فکشن جیسا لگتا ہے لیکن ٹوئٹر کے سابق سربراہ جیک ڈورسی پہلے ہی اس نوعیت کے آئیڈیاز کو بڑے پیمانے پر آزما رہے ہیں۔
میٹا کی جانب سے یہ پروجیکٹ ابھی ابتدائی مراحل میں ہے تاہم اسے کمپنی کی اہم ترجیحات میں شامل کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں ایسے اے آئی کردار بھی متوقع ہیں جو فیس بک اور انسٹاگرام صارفین سے براہ راست بات چیت کر سکیں گے اور خود مارک زکربرگ کے انداز میں سوالات کے جواب دیں گے۔
مزید پڑھیے: اے آئی چیٹ بوٹ کلاڈ صارفین کے پاسپورٹ مانگنے لگا، وجہ کیا ہے؟
اس سے پہلے بھی کچھ مثالیں سامنے آ چکی ہیں۔ گزشتہ سال کمپنی کلارنا کے سی ای او اور زوم کے سربراہ نے اپنی کمپنی کی آمدنی سے متعلق تقریروں کے کچھ حصے اے آئی ورژن کے ذریعے پیش کیے تھے۔
دوسری جانب جیک ڈورسی کی کمپنی بلاک (سابقہ اسکوائر) میں یہ تصور مزید آگے بڑھایا جا رہا ہے۔ کمپنی نے حال ہی میں ہزاروں ملازمین کو فارغ کیا اور اس کے بعد ڈورسی نے انتظامی ڈھانچے کو کم سے کم کرنے کا وژن پیش کیا جس کے مطابق ممکن ہے کہ مستقبل میں ملازمین براہ راست ان سے رپورٹ کریں۔
انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں کہا کہ ان کا مثالی ماڈل یہ ہوگا کہ کمپنی میں درمیانی انتظامی پرتیں تقریباً ختم ہو جائیں اور تمام افراد براہ راست سی ای او سے منسلک ہوں۔
مزید پڑھیں: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے
یہ نظریہ اس خیال پر مبنی ہے کہ مستقبل میں کمپنیاں روایتی ڈھانچے کے بجائے مصنوعی ذہانت کو مرکزی نظام کے طور پر استعمال کریں گی تاکہ فیصلہ سازی اور کارکردگی دونوں میں بہتری لائی جا سکے۔














