حکومتِ پاکستان نے پیر کے روز اعتراف کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث عالمی سپلائی چین میں خلل کے نتیجے میں مہنگائی کے دباؤ سے رواں اور آئندہ مالی سال میں ملکی معاشی ترقی متاثر ہوگی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی، عالمی تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی مل کر معاشی سست روی کا باعث بنیں گے۔
وفاقی وزیر کے مطابق اس صورتحال سے رواں مالی سال کے لیے 4.2 فیصد شرح نمو کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا بات چیت کا پاکستان کی معیشت پر کیا اثر پڑے گا؟
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے باضابطہ طور پر ہدف سے کم معاشی نمو کا اعتراف کیا ہے، جبکہ عالمی مالیاتی ادارے پہلے ہی شرح نمو 3.2 سے 3.5 فیصد کے درمیان رہنے کی پیشگوئی کر چکے ہیں۔
احسن اقبال نے بتایا کہ رواں سال کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام یعنی پی ایس ڈی پی کا حجم 1.01 کھرب روپے سے کم کر کے 837 ارب روپے کر دیا گیا ہے، یعنی 173 ارب روپے کی کمی کی گئی۔
یہ کمی وزیرِ اعظم کے قائم کردہ کفایت شعاری فنڈ کے لیے کی گئی تاکہ بالخصوص فصلوں کی کٹائی کے موسم میں ڈیزل کی قیمتوں پر سبسڈی دی جا سکے۔
Federal Minister Prof. Ahsan Iqbal shares key insights of Pakistan’s economic performance and policy direction during the release of the April 2026 Monthly Development Update in Islamabad.
Pakistan’s economy has demonstrated stability and recovery, with inflation easing to 5.5%… pic.twitter.com/aYju7wa08x
— Ministry of Planning and Development (@PlanComPakistan) April 20, 2026
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کی سہولت کاری میں جاری مذاکرات کے دوسرے مرحلے پر محتاط امید کا اظہار کیا۔
تاہم ان کا مؤقف تھا کہ ایسے پیچیدہ تنازعات فوری حل نہیں ہوتے اور دونوں فریقین کو لچک دکھانا ہوگی تاکہ عالمی کشیدگی اور معیشت کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کا بحران اگرچہ رواں مالی سال کے آخری حصے میں سامنے آیا ہے، اس لیے اس کے اثرات محدود رہیں گے۔
مزید پڑھیں: پاکستان معیشت کی بحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا ہارورڈ کانفرنس میں خطاب
تاہم آئندہ مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہوں گے، چاہے جنگ فوری ختم ہی کیوں نہ ہو جائے۔ ان کے مطابق عالمی سپلائی چین کو معمول پر آنے میں 6 سے 9 ماہ لگتے ہیں۔
وزیرِ منصوبہ بندی نے کہا کہ حکومت برآمدات بڑھانے کے لیے بجٹ میں خصوصی اقدامات کرے گی کیونکہ زرمبادلہ کے اخراج اور آمد کے درمیان فرق کم کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کے پہلے 2 سہ ماہی میں پاکستان کی جی ڈی پی شرح نمو 3.8 فیصد رہی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 1.9 فیصد تھی، تاہم مشرقِ وسطیٰ کے بحران نے اسے متاثر کیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی فری لانس انڈسٹری ڈیجیٹل معیشت کا ابھرتا ہوا عالمی مرکز کیسے بن رہی ہے؟
احسن اقبال کے مطابق عالمی معیشت کے لیے تیل کی قیمتیں اور اس کی ترسیل ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اور قیمتوں میں اضافے نے برآمدی لاگت بڑھا دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بروقت فیصلوں کے ذریعے تیل کی سپلائی میں خلل نہیں آنے دیا، تاہم کھپت کو کنٹرول کرنے کے لیے قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے ابتدا میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا اور بعد ازاں 2 ہفتوں تک 129 ارب روپے کی سبسڈی دی گئی، جس کے لیے ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی گئی۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی ترسیلاتِ زر میں نمایاں اضافہ، معیشت کے لیے مثبت اشارہ
آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث بعد میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 137 اور 184 روپے فی لیٹر اضافہ کرنا پڑا، تاہم وزیرِ اعظم نے کسانوں کو ریلیف دینے کے لیے ڈیزل کی قیمت میں 135 روپے فی لیٹر کمی کی۔
احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر سفارتی کوششیں بھی تیز کیں تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کو روکا جا سکے، کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی تباہ کن ہو سکتے ہیں، خصوصاً تیل اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے باعث۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس صورتحال سے پیٹروکیمیکل اور کھاد کی صنعتیں بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسی تناظر میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے عالمی شرح نمو کا تخمینہ 3.3 فیصد سے کم کر کے 3.1 فیصد کر دیا ہے جبکہ مہنگائی کا تخمینہ 3.8 فیصد سے بڑھا کر 4.4 فیصد کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کے پاس تیل کے ذخائر کتنے اور معیشت کی صورتحال کیا، وزرارت خزانہ نے بتادیا
وزیرِ منصوبہ بندی کے مطابق پاکستان میں اوسط مہنگائی پہلے 9 ماہ میں بڑھ کر 5.7 فیصد ہو گئی، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں 3.5 فیصد تھی۔
’مارچ میں افراطِ زر 7.3 فیصد تک پہنچ گئی، جس کی بڑی وجہ توانائی اور غیر خوراکی اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے اجلاس ماہانہ کی بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر شروع کر دیے ہیں اور صوبوں کے ساتھ مل کر قیمتوں کو کنٹرول کرنے اور ٹرانسپورٹ کرایوں میں کمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔













