ڈائریکٹر ایف بی آئی کا دی اٹلانٹک کے خلاف 25 کروڑ ڈالر کا ہتکِ عزت مقدمہ

پیر 20 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے امریکی جریدے دی اٹلانٹک اور اس کی رپورٹر سارہ فٹزپیٹرک کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

یہ مقدمہ جمعے کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد دائر کیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کاش پٹیل کو شراب نوشی کا مسئلہ ہے جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

دی اٹلانٹک کی رپورٹ میں دو درجن سے زائد گمنام ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے پٹیل کے مبینہ غیر معمولی رویے، نشے کی حالت میں نظر آنے اور پراسرار غیر حاضریوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: گرل فرینڈ کی حفاظت کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال، ایف بی آئی سربراہ کاش پٹیل تنقید کی زد میں

رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ پٹیل کی مبینہ شراب نوشی کے باعث ایف بی آئی کو صبح کے اجلاس مؤخر کرنا پڑے اور وہ اکثر دستیاب نہیں ہوتے، جس سے حساس نوعیت کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔

تاہم، اس رپورٹ میں وائٹ ہاؤس، محکمہ انصاف امریکا اور خود کاش پٹیل نے ان الزامات کی تردید کی۔

ایف بی آئی کی جانب سے پٹیل کے نام سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسے شائع کریں، سب جھوٹ ہے۔ ’عدالت میں ملاقات ہوگی، اپنا چیک بک ساتھ لائیں۔‘

میڈیا رپورٹس کے مطابق کاش پٹیل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دی اٹلانٹک کی رپورٹ مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اشاعت سے قبل انہیں حقیقت سے آگاہ کیا گیا تھا، مگر اس کے باوجود غلط معلومات شائع کی گئیں۔

اتوار کو فوکس نیوز پر ایک پروگرام میں کاش پٹیل کی جانب سے مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی کے بعد دی اٹلانٹک کے ایڈیٹر ان چیف جیفری گولڈبرگ نے کہا کہ ادارہ اپنی رپورٹنگ پر قائم ہے۔

یہ مقدمہ امریکی عدالت ڈسٹرکٹ کورٹ فار دی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں دائر کیا گیا ہے جس میں 25 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جریدے نے جان بوجھ کر جھوٹے اور من گھڑت الزامات شائع کیے تاکہ کاش پٹیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے اور انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔

مزید پڑھیں: کیا گلیمر گرل پروین بوبی امریکی ایف بی آئی کے ہاتھوں ہلاک ہوئیں؟

مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جریدے نے ایف بی آئی کی تردید کو نظر انداز کیا اور پٹیل کے وکیل جیسی بنال کی جانب سے مزید وقت دینے کی درخواست کا بھی جواب نہیں دیا۔

یہ مقدمہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ شخصیات کی جانب سے میڈیا اداروں کے خلاف قانونی کارروائیوں کی تازہ مثال ہے۔

اس سے قبل عدالتیں صدر ٹرمپ کے سی این این، نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف دائر مقدمات مسترد کر چکی ہیں، تاہم کچھ معاملات میں تصفیے بھی ہوئے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کی سماعت، گواہان پر جرح مکمل

بھارت میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف تشدد اور نفرت انگیز کاروائیوں پر امریکا کی تحقیقات

ایوانِ صدر میں تقریب، بہادری اور قومی خدمات پر مسلح افواج کے افسران و جوانوں کو اعزازات سے نوازا گیا

سپریم جوڈیشل کونسل کا اہم اجلاس: ججز کے خلاف 23 شکایات داخلِ دفتر، 6 ججز کے خط پر کارروائی موخر

پاکستان کیخلاف وہ عناصر مہم چلا رہے ہیں جنہیں قیام امن میں ہمارا کردارتسلیم نہیں، وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ

ویڈیو

ایوانِ صدر میں تقریب، بہادری اور قومی خدمات پر مسلح افواج کے افسران و جوانوں کو اعزازات سے نوازا گیا

امریکی صدر کا دورہ چین: امریکا اور چین کے تعلقات دنیا کی تاریخ کے سب سے اہم تعلقات میں سے ایک ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ٹرمپ کا دورۂ چین، شی جن پنگ کا امریکا کو شراکت داری کا پیغام

کالم / تجزیہ

کیا آپ نے چین کے دورے پر موجود ڈونلڈ ٹرمپ کے وفد پر غور کیا ہے؟

سعودی عرب کی سوچ

چپکے چپکے دل میں اترتا حسرتؔ