امریکا کے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے امریکی جریدے دی اٹلانٹک اور اس کی رپورٹر سارہ فٹزپیٹرک کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ دائر کر دیا ہے۔
یہ مقدمہ جمعے کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے بعد دائر کیا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کاش پٹیل کو شراب نوشی کا مسئلہ ہے جو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
دی اٹلانٹک کی رپورٹ میں دو درجن سے زائد گمنام ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے پٹیل کے مبینہ غیر معمولی رویے، نشے کی حالت میں نظر آنے اور پراسرار غیر حاضریوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: گرل فرینڈ کی حفاظت کے لیے سرکاری وسائل کا استعمال، ایف بی آئی سربراہ کاش پٹیل تنقید کی زد میں
رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا کہ پٹیل کی مبینہ شراب نوشی کے باعث ایف بی آئی کو صبح کے اجلاس مؤخر کرنا پڑے اور وہ اکثر دستیاب نہیں ہوتے، جس سے حساس نوعیت کے فیصلوں میں تاخیر ہوتی ہے۔
تاہم، اس رپورٹ میں وائٹ ہاؤس، محکمہ انصاف امریکا اور خود کاش پٹیل نے ان الزامات کی تردید کی۔
ایف بی آئی کی جانب سے پٹیل کے نام سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسے شائع کریں، سب جھوٹ ہے۔ ’عدالت میں ملاقات ہوگی، اپنا چیک بک ساتھ لائیں۔‘
FBI Director Kash Patel sues The Atlantic claiming false reporting about drinking, absences. Patel making a mistake. He’ll lose or drop suit. Get ready for “ we appreciate Kash’s dedication and service and know he’ll succeed in his next endeavor.” https://t.co/JiIrjDTgDi
— Karl Rosenfeld (@kneerecon) April 20, 2026
میڈیا رپورٹس کے مطابق کاش پٹیل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ دی اٹلانٹک کی رپورٹ مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اشاعت سے قبل انہیں حقیقت سے آگاہ کیا گیا تھا، مگر اس کے باوجود غلط معلومات شائع کی گئیں۔

اتوار کو فوکس نیوز پر ایک پروگرام میں کاش پٹیل کی جانب سے مقدمہ دائر کرنے کی دھمکی کے بعد دی اٹلانٹک کے ایڈیٹر ان چیف جیفری گولڈبرگ نے کہا کہ ادارہ اپنی رپورٹنگ پر قائم ہے۔
یہ مقدمہ امریکی عدالت ڈسٹرکٹ کورٹ فار دی ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں دائر کیا گیا ہے جس میں 25 کروڑ ڈالر ہرجانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جریدے نے جان بوجھ کر جھوٹے اور من گھڑت الزامات شائع کیے تاکہ کاش پٹیل کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے اور انہیں عہدے سے ہٹایا جائے۔
مزید پڑھیں: کیا گلیمر گرل پروین بوبی امریکی ایف بی آئی کے ہاتھوں ہلاک ہوئیں؟
مقدمے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جریدے نے ایف بی آئی کی تردید کو نظر انداز کیا اور پٹیل کے وکیل جیسی بنال کی جانب سے مزید وقت دینے کی درخواست کا بھی جواب نہیں دیا۔
یہ مقدمہ ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ سے وابستہ شخصیات کی جانب سے میڈیا اداروں کے خلاف قانونی کارروائیوں کی تازہ مثال ہے۔
اس سے قبل عدالتیں صدر ٹرمپ کے سی این این، نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کے خلاف دائر مقدمات مسترد کر چکی ہیں، تاہم کچھ معاملات میں تصفیے بھی ہوئے ہیں۔














